اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):کراچی کی مصروف گلیوں سے لے کر ہنزہ کی پُرسکون وادیوں تک پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاح ملک کی بے مثال مہمان نوازی، گرمجوشی اور فراخ دلی سے حیران اور بے حد متاثر نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اجنبیوں کو محض خوش آمدید نہیں کہا جاتا بلکہ انہیں معزز مہمان سمجھ کر گلے لگایا جاتا ہے، کھانا پیش کیا جاتا ہے، شہروں اور دیہات میں …
پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی بے مثال مہمان نوازی، تحفظ اور خلوص نے عالمی شبیہ بدل دی، دنیا محفوظ اور خوش آمدید کہنے والے ملک کے طور پر دیکھنے لگی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):کراچی کی مصروف گلیوں سے لے کر ہنزہ کی پُرسکون وادیوں تک پاکستان آنے والے غیر ملکی سیاح ملک کی بے مثال مہمان نوازی، گرمجوشی اور فراخ دلی سے حیران اور بے حد متاثر نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اجنبیوں کو محض خوش آمدید نہیں کہا جاتا بلکہ انہیں معزز مہمان سمجھ کر گلے لگایا جاتا ہے، کھانا پیش کیا جاتا ہے، شہروں اور دیہات میں رہنمائی دی جاتی ہے اور خلوصِ دل سے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ہر جگہ ’’آپ ہمارے مہمان ہیں ‘‘کی صدا سنائی دیتی ہے جو اس جذبے کی عکاسی کرتی ہے جو عام سفر کو ناقابلِ فراموش انسانی تجربات میں بدل دیتا ہے اور ہر آنے والے کے دل پر گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے۔
شہروں کے دل سے لے کر دور دراز دیہات تک مسافر بارہا بیان کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ خاندان کے افراد جیسا سلوک کیا گیا۔ تنہا سفر کرنے والی خواتین خصوصاً اس بات پر زور دیتی ہیں کہ انہیں بازاروں میں گھومتے، ہوٹلوں میں قیام کرتے یا دیہی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے محفوظ، باعزت اور مطمئن محسوس ہوا۔ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور، دکاندار اور ریسٹورنٹ مالکان اکثر کرایہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں یا منصفانہ سلوک پر اصرار کرتے ہیں، جو اس خالص مہمان نوازی کی مثال ہے جو پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔
غیر ملکی سیاح ایسے لمحات بیان کرتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے ان کی یادوں میں بس جاتے ہیں۔ ایک آسٹریلوی سیاح لیام نے اے پی پی کو بتایا کہ مری گلیات میں مقامی لوگوں نے انہیں اپنے گھروں میں خوش دلی سے مدعو کیا اور بغیر کسی توقع کے کھانا کھلایا جس پر وہ ان کی سخاوت دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ایک اور ملائیشین سیاح ساکینہ نے اے پی پی سے گفتگو میں بتایا کہ ہنزہ میں اچانک بارش کے دوران اجنبیوں نے انہیں پناہ، چائے اور رات کا کھانا پیش کیاجس نے پاکستان اور اس کے لوگوں کے بارے میں ان کا تصور یکسر بدل دیا۔بیک پیکرز، مؤرخین اور مہم جو سیاح سبھی اس فطری اور دل سے نکلنے والی مہمان نوازی پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں جو بڑے شہروں سے لے کر چھوٹی برادریوں تک پھیلی ہوئی ہے۔
جیسے جیسے یہ تجربات ٹریول بلاگز، ولاگز اور سوشل میڈیا کے ذریعے گردش کر رہے ہیں، دنیا آہستہ آہستہ پاکستان کے حقیقی کردار سے واقف ہو رہی ہے۔ یہ تعریف کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔ سیاح کھلے دل سے اپنے تجربات بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایماندار، فیاض اور مددگار لوگ ملے جنہوں نے قومیت یا پس منظر سے قطع نظر سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا۔یہ زمینی حقیقت خطے کے بعض دیگر ممالک میں سیاحوں کے بیان کردہ تجربات کے بالکل برعکس ہے جہاں اکثر غیر ملکیوں سے زائد رقم وصول کی جاتی ہے، دھوکہ دیا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے، خصوصاً خواتین جو تعاقب، زبانی بدسلوکی یا جسمانی حملوں کا ذکر کرتی ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان خاموشی سے ایک مختلف داستان رقم کر رہا ہے اعتماد، احترام اور تحفظ کی داستان جہاں غیر ملکی سیاح بے خوف ہو کر آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔مورخین اور ثقافتی ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی مہمان نوازی پاکستان کی قدیم تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب جو پانچ ہزار سال قبل دریائے سندھ کے کنارے شمال سے بحیرۂ عرب تک پھلی پھولی، جدید شہری منصوبہ بندی، صفائی کے نظام اور بڑے پیمانے پر اسلحے کی عدم موجودگی کی گواہی دیتی ہے۔ یہ شواہد اس بات کی مضبوط دلیل ہیں کہ وادی سندھ کے لوگ پُرامن، باہمی تعاون کرنے والے اور مہمان نواز تھے۔
جدید پاکستان اسی قدیم تہذیب کے جغرافیائی مرکز میں واقع ہےاور بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں کے باشندوں نے وہ پُرامن ثقافتی جبلت وراثت میں پائی ہے۔ مہمان نوازی، سخاوت اور مہمان کا احترام سیاحتی مہمات کے ذریعے نہیں سکھایا جاتا بلکہ خاندانوں، روایات اور اقدار کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔1947 میں آزادی کے بعد سے پاکستان سیاحوں، کوہ پیماؤں، مؤرخین اور ثقافتی مسافروں کے لیے ایک پُرکشش منزل رہا ہے۔ اس کے پہاڑ، وادیاں، تاریخی مقامات اور عوام کا فطری حسن ہمیشہ سے تعریف کا باعث رہے ہیں، اگرچہ ڈیجیٹل دور سے قبل یہ آوازیں محدود رہیں۔
اسی دوران بھارت نے فلم، میڈیا اور مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی ثقافت کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں فروغ دیا، جس کے باعث عالمی سیاحتی نقشے پر پاکستان کی موجودگی دب گئی۔معروف تجزیہ کار ہمایوں اقبال شامی نے اے پی پی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد پاکستان کی شبیہ جان بوجھ کر خراب کی گئی۔
اسلاموفوبیا سے متاثرہ پاکستان مخالف قوتوں نے اس سانحے کو پرانے حساب چکانے، جغرافیائی سیاسی ایجنڈے آگے بڑھانے اور ایک مسلم ملک کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جس کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ بغیر ثبوت اور انصاف کےپاکستان کو ایسی جنگ میں جھونک دیا گیا جو اس کی اپنی نہیں تھی جبکہ مخالف بیانیوں نے اسے شدت پسند اور غیر محفوظ قرار دیا۔ اثرورسوخ رکھنے والے بین الاقوامی میڈیا نے خوف اور شبہات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں حسابی کردار ادا کیا اور پاکستان کو مظلوم کے بجائے مجرم بنا کر دکھایا۔
سفری ہدایات، انتباہات اور پروپیگنڈا سامنے آئے جو حقائق کے بجائے تعصب اور سیاسی سہولت پر مبنی تھے۔ مقصد واضح تھا،پاکستان کو معاشی، سفارتی اور سماجی طور پر الگ تھلگ کرنا اور اسلام کو بطور خطرہ پیش کرنا۔ سیاحت اس لیے نہیں گری کہ پاکستان خطرناک تھا بلکہ اس لیے کہ حقیقت کو گھڑی ہوئی کہانیوں اور منتخب بیانیوں کے نیچے دبا دیا گیا۔اسی دوران بھارت نے اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاکھوں سیاحوں کو متوجہ کیا اور بھاری آمدن حاصل کی جبکہ پاکستان حقیقت کے بجائے بدنامی سے نبرد آزما رہا۔سوشل میڈیا اور آزاد سفری دستاویزات کی آمد نے منظرنامہ بدل دیا۔
جیسے ہی سیاحوں نے پاکستان آنا شروع کیا اور اپنے اصل تجربات آن لائن شیئر کیے، بیانیہ فطری طور پر بدل گیا۔ سیاحوں نے مہربانی، دیانت اور تحفظ کی تعریف کی۔ انہوں نے دھوکہ دہی کی عدم موجودگی، منصفانہ قیمتوں، مقامی اور غیر ملکیوں کے ساتھ یکساں سلوک اور ضرورت کے وقت مدد کے غیر معمولی جذبے کو سراہا۔تنہا سفر کرنے والی خواتین سب سے مؤثر گواہ بن کر سامنے آئیں۔ یورپ، امریکا اور مشرقی ایشیا کی خواتین مسلسل یہ بتاتی ہیں کہ انہیں شہروں اور دیہی علاقوں میں گھومتے ہوئے احترام، تحفظ اور اطمینان ملا۔ وہ شائستہ رویوں، محفوظ عوامی مقامات اور ثقافتی حساسیت کا ذکر کرتی ہیں جو پرانے دقیانوسی تصورات کی نفی کرتی ہے۔
ان شہادتوں نے پاکستان کی شبیہ ایک محفوظ، خوش آمدید کہنے والے اور ثقافتی ہم آہنگ ملک کے طور پر مضبوط کی ہے۔مذہبی اور ثقافتی رواداری بھی پاکستان کی کشش کو بڑھاتی ہے۔ ملک بھر میں ہندو مندروں، سکھ گوردواروں، عیسائی گرجا گھروں اور قدیم بدھ مت کے مقامات کو محفوظ رکھا گیا ہے اور پُرامن طور پر دیکھا جاتا ہے۔ سیاح بارہا تمام مذاہب کے احترام پر تحسین کا اظہار کرتے ہیں جو تنوع اور ہم آہنگی کو اپنانے والے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔
آج پاکستان وہ سب کچھ پیش کرتا ہے جو ایک عالمی سیاح چاہتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، پُرسکون صحرا، سنہری ساحل، قدیم تہذیبیں، رنگا رنگ روایات، متنوع پکوان، بہتر ہوتی سفری سہولیات اور سب سے بڑھ کر غیر معمولی انسانی گرمجوشی۔ 2024 میں تقریباً دس لاکھ غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا دورہ کیا، جس سے معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا اور اس شعبے میں مزید ترقی کی بنیاد پڑی۔اعتماد اور امن کی اس خاموش بحالی کے پیچھے پاکستان کی مسلح افواج کی بے مثال قربانیاں اور عزم کارفرما ہیں، جو چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں سامنے آئے۔
غیر متزلزل عزم، فیصلہ کن اقدامات اور قومی استحکام کے واضح وژن کے ذریعے سکیورٹی فورسز نے اُن علاقوں میں امن بحال کیا جو کبھی تنازعات سے متاثر تھے۔بنیان مرصوص سمیت مختلف آپریشنز محض فوجی مہمات نہیں بلکہ تاریخی موڑ ثابت ہوئے جنہوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑا، شہریوں کا تحفظ کیا اور پاکستان کی عزتِ نفس بحال کی۔ انہی قربانیوں کے باعث آج سیاح آزادانہ گھوم سکتے ہیں، محفوظ انداز میں دریافت کر سکتے ہیں اور پاکستان کو بے خوف ہو کر محسوس کر سکتے ہیں۔
آج سیاحوں کی مسکراہٹیں اُن خاموش نگہبانیوں اور خون سے حاصل کیے گئے امن کی مرہونِ منت ہیں جو ملک کے سپاہیوں، افسران اور شہدا کی جرأت نے ممکن بنایا، ایسی جرأت جس نے نعروں کے بجائے پائیدار امن کے ذریعے پاکستان کی شبیہ بدل دی۔ماہرین تاہم اس امر پر زور دیتے ہیں کہ اس موقع کی حفاظت ضروری ہے۔ پاکستان کو سیاح دوست انفراسٹرکچر مضبوط کرنا، سہولت مراکز بہتر بنانا اور تمام زائرین خصوصاً خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ سیاحوں کے تجربات دنیا بھر میں مستقبل کے مسافروں کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔سوشل میڈیا پاکستان کا غیر متوقع اتحادی بن چکا ہے۔
پہلی بار دنیا سیاحوں کی آواز براہِ راست سن رہی ہے۔سیاست یا پروپیگنڈے کے فلٹر کے بغیرجو حقیقی ملاقاتوں، حقیقی لوگوں اور حقیقی مہربانی سے تشکیل پاتی ہے۔پاکستان دنیا کو دکھا رہا ہے کہ وہ خوف یا انتہاپسندی کی سرزمین نہیں بلکہ مہمان نوازی، میزبانی، وقار اور انسانیت کا ملک ہے۔








