اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش میں مظاہرین، بھارتی سرپرستی میں پھیلنے والی دہشتگردی کیخلاف بھارتی سرحد تک آ گئے،بھارت کی بنگلہ دیش میں عدم استحکام پھیلانے اور اپنی پراکسی حسینہ واجد کی سرپرستی مہنگی پڑ گئی ۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑے لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کے باعث الرٹ جاری کر دیا گیا۔بنگلہ دیش کی جانب سے پیٹراپول کے قریب …
بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت اور قاتلوں کی سرپرستی کیخلاف شدید احتجاج مسلسل جاری

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش میں مظاہرین، بھارتی سرپرستی میں پھیلنے والی دہشتگردی کیخلاف بھارتی سرحد تک آ گئے،بھارت کی بنگلہ دیش میں عدم استحکام پھیلانے اور اپنی پراکسی حسینہ واجد کی سرپرستی مہنگی پڑ گئی ۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق بنگلہ دیش اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑے لینڈ پورٹ پیٹراپول پر احتجاج کے باعث الرٹ جاری کر دیا گیا۔بنگلہ دیش کی جانب سے پیٹراپول کے قریب عوام نے "نو مینز لینڈ” میں داخل ہو کر ہندوستان مخالف نعرے لگائے۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد پورٹ کے علاقے بیناپول میں ہندوستانی ٹرک ڈرائیور زکیلئے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں مظاہرین نے ہندوستان کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی چٹاگانگ رہائش گاہ کے باہر بھی بھرپور احتجاج کیا۔سیاسی کارکن عثمان ہادی کو بھارت کے فون نمبرز سے قتل کی دھمکیاں دی گئیں تھی۔
بنگلادیشی وزارتِ خارجہ نے بھارت سے عثمان ہادی پر قاتلانہ حملہ میں ملوث افراد کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔خطہ میں عدم استحکام، ریاستی دہشتگردی گردی اور اندرونی مداخلت کرنا بھارت کا پرانا وطیرہ رہا ہے۔بنگلا دیش کے عوام قاتلوں کے سرپرست مودی کی تمام سازشوں کو بخوبی جان چکے ہیں اور اس کی سفاکیت کے خلاف برسرِ پیکار ہو گئے ہیں۔








