اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم اورنگزیب کی درخواست ضمانت درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دی۔ ملزم پر ایک شخص کے قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔کیس کی سماعت پیر کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور کیس کے …
سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اورنگزیب کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر مسترد

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم اورنگزیب کی درخواست ضمانت درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دی۔ ملزم پر ایک شخص کے قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔کیس کی سماعت پیر کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور کیس کے حقائق میں واضح فرق ہے جبکہ سائٹ پلان اور چالان میں بھی مماثلت موجود نہیں۔اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا ملزم ایک عرصے تک مفرور بھی رہا ہے؟ جس پر سرکاری وکیل زاہد یوسف قریشی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم 5 سال، 2 ماہ اور 12 دن تک مفرور رہا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ ملزم کی گرفتاری کب عمل میں آئی؟ وکیل ملزم نے بتایا کہ ملزم کو 11 نومبر 2025ء کو گرفتار کیا گیا۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تو ملزم گرفتار ہوا ہے، ضمانت کی جلدی کیا ہے؟ کیا کوئی خاص شخص ہے جو دو ماہ بھی جیل میں نہیں رہ سکتا؟وکیل ملزم نے عدالت سے استدعا کی کہ ٹرائل کورٹ کو مقدمے کا فیصلہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی جائے۔
تاہم جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزم بروقت گرفتار ہو جاتا تو اب تک ٹرائل مکمل ہو چکا ہوتا۔عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اورنگزیب پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سال 2020ء میں مانسہرہ میں قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست ضمانت درخواست واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دی۔








