علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے جو بے مثال جدوجہد کی وہ تاریخ اسلام اور تاریخ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے ، مقررین کا مولانا شاہ احمد نورانی کی برسی کی مناسبت سے تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ شرکاء نے کہا کہ علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے جو بے …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی برسی کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکاء نے علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ شرکاء نے کہا کہ علامہ شاہ احمد نورانی نے تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفیٰ کے لیے جو بے مثال جدوجہد کی وہ تاریخ اسلام اور تاریخ پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہے۔

مولانا شاہ احمد نورانی نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کی ایک مضبوط ،توانا ، بے باک اور موثر آواز تھے، قیام پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اس مملکت خداداد میں نظام مصطفیٰ ﷺ کو عملاً نافذ کیا جائے، اسے محض نعرہ نہیں بلکہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں پر نافذ کر کے اس کے ثمرات حاصل کیے جائیں، تحفظ مقام مصطفیٰ ﷺ عظیم مقصد تھا تاکہ گستاخی رسول ﷺ کا راستہ روکا جائے اور ناموس رسالت ﷺ کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر کرنل محمد سرفراز سیفی کی زیر صدارت سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان ، مولانا ملک محبوب الرسول قادری ، پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف ہزاروی ، سید محمد عبداللہ شاہ قادری ، پروفیسر محمد جی اے حق چشتی ، پروفیسر ڈاکٹر حمزہ مصطفائی ، علامہ گلزار حسین نعیمی ، علامہ منیر عالم ہزاروی ، سابق صدر پریس کلب محمد افضل بٹ ، سینئر صحافی سردار سلطان سکندر ، علامہ احمد بخش توگیروی ، مولانا قاری عبدالعزیز قادری ، حاجی عطاء اللہ خان روکھڑی (متولی خانقاہ مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی )، ثناء خوان محمد شہزاد ، قاری محمد عمیر سمیت متعدد مقررین نے پیر کو یہاں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں سہ ماہی انوار رضا کے خصوصی ایڈیشن خبری البم کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ تقریب قائد اہل سنت حضرت مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کی برسی کی مناسبت سے منعقد کی گئی۔ تقریب میں بتایا گیا کہ دسمبر کے مہینے کی مناسبت سے سہ ماہی انوار رضا، جوہرآباد کے پلیٹ فارم سے حضرت قائد اہل سنت کی دینی، سیاسی، سماجی اور ملی خدمات پر مشتمل متعدد کتب اور خصوصی ایڈیشن شائع کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل اس سلسلے کے 18 ایڈیشنز منظر عام پر آ چکے ہیں۔

یہ اشاعتیں دراصل حضرت مولانا نورانی کی خدمات کا اعتراف بھی ہیں اور ایک تاریخی دستاویز بھی جن میں اس دور کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹنگ کو یکجا کر کے محفوظ کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مستند اور دستاویزی حوالہ باقی رہے۔ مقررین نے کہا کہ اگرچہ آج کے دور میں الیکٹرانک میڈیا غالب ہے، مگر یہ کبھی بھی مکمل طور پر حوالہ اور ریفرنس نہیں بن سکا۔ یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اگر مستقبل میں دینی مواد اور اسلامی لٹریچر کو ڈیجیٹل ذرائع سے ہٹا دیا گیا تو امت مسلمہ ایک بڑے علمی خلا کا شکار ہو جائے گی۔

اس لیے کتاب کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ یہ تقریب محض کتب کی رونمائی تک محدود نہ تھی بلکہ قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کی محفل بھی تھی،آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اس علمی و فکری کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، حضرت قائد اہل سنت کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے عملی جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر تمام شرکا کو کتابوں کے تحائف پیش کیے گئے۔ پروفیسر خالد جیلانی ٹوانہ ، سردار عتیق احمد خان ، پروفیسر احمد بخش توگیروی ، علامہ گلزار حسین نعیمی اور محمد افضل بٹ کو خبری البم کے تحائف پیش کیے گئے۔