پائیدار ترقی کے لئے بنیادی اصلاحات ضروری ہے، ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ملک میں کلی معیشت کے استحکام کا اعتراف کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے لئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں 25ویں زاہد حسین یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر عامر صوفی نے شرکا سے کلیدی خطاب کیا۔ لیکچر کے …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ملک میں کلی معیشت کے استحکام کا اعتراف کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے لئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انہوں نے یہ بات پیر کو کراچی کے مقامی ہوٹل میں 25ویں زاہد حسین یادگاری لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں معروف ماہرِ معاشیات پروفیسر عامر صوفی نے شرکا سے کلیدی خطاب کیا۔ لیکچر کے اس سلسلے کا مقصد سٹیٹ بینک کے پہلے گورنر زاہد حسین کی انقلابی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

25 ویں یادگاری لیکچر کے شرکا میں سفارتکار، ادیب، بینکنگ انڈسٹری کے رہنما، کاروباری برادری اور مرحوم گورنر کے اہلخانہ بھی شامل تھے۔ شرکا ء نے ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی کے دور میں مالی نظام کے ارتقا ء کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔ یونیورسٹی آف شکاگو میں بروس لنزے پروفیسر اور 2017ء میں فشر بلیک پرائز حاصل کرنے والے پروفیسر عامر صوفی نے جدید معیشتوں کی ساختی تبدیلی پر ایک لیکچر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ عالمی مارکیٹس ہائی ٹیک سروسز یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پروفیشنل سائنٹیفک سروسز کی جانب منتقل ہو رہی ہیں، مالی شعبے کا بھی ان سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔

ڈاکٹر عامر صوفی نے کہا کہ یہ شعبے تحقیق و ترقی اور تخصیصی فہم جیسے غیر مادی سرمائے کا بلند تناسب رکھتے ہیں جبکہ روایتی بینکاری نظام ان شعبوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کی مناسب اہلیت نہیں رکھتا چونکہ بینک عام طور پر مادی ضمانت اور قابلِ فروخت اثاثوں پر انحصار کرتے ہیں انہیں اُن نئی کمپنیوں کی مالی معاونت میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جن کی قدر دوبارہ قابلِ استعمال مادی اثاثوں کے بجائے چلتے ہوئے کاروبا‘ یا قدرِ تسلس سے جڑی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عامر صوفی نے زور یا کہ اس خلا کو پُر کرنے کے لئے مالی وساطت کے ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو غیر مادی سرمائے میں مہارت رکھتے ہوں خاص طور پر انہیں نقد کے بہاؤ پر مبنی قرضوں کی فراہمی اور وینچر کیپٹل اور پرائیویٹ ایکویٹی جیسی بیرونی ایکویٹی فنانسنگ میں مہارت ہونی چاہئے۔

پاکستان جیسے ممالک میں ریگولیٹرز کو چاہئے کہ وہ بلند نمو والے شعبوں کے فروغ کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کرنے میں باہم اشتراک کریں۔ اس میں بزنس ویلیو کو محفوظ رکھنے کے لئے دیوالیہ کی روک تھام کے ایک موثر نظام کی تشکیل اور ایکویٹی کے پیچیدہ انتظامات کے لئے معاہدے پر عمل درآمد کا مضبوط مکینزم قائم کرنا شامل ہیں۔ اپنی افتتاحی تقریر میں سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ملک کے موجودہ میکرو اکنامک استحکام کا اعتراف کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے لئے بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ماضیِ قریب میں بار بار دیکھے جانے والے اتارچڑھائو کے چکر کو توڑا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ”حقیقی معیشت” میں مناسب سرمایہ کاری پائیدار اور جامع ترقی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے ایس ایم ایز، نوجوانوں، اور خواتین تک مالی رسائی بڑھانے کو شمولیتی ترقی کے لئے اہم ترین ضرورت قرار دیا اور بینکوں پر زور دیا کہ وہ روایتی ضمانت پر مبنی قرضے دینے کی بجائے نقد بہاؤ پر مبنی قرض گیری ماڈلز اپنائیں جن میں کاروباری خطرات کی بہتر سمجھ بوجھ کا خیال رکھا گیا ہو۔

ڈپٹی گورنر نے سٹیٹ بینک کے فعال کردار پر بھی زور دیا اور تبدیلی کے اس عمل میں ایس ایم ای اور زرعی فنانس کے لئے رسک کوریج سہولت، برابری پر بینکاری پالیسی، اور فِن ٹیک اداروں کے لئے ریگولیٹری سینڈباکس جیسے اہم اقدامات کا ذکر کیا۔ای-کے وائی سی جیسے ڈجیٹل انفراسٹرکچر اور تیز رفتار ادائیگی کے نظام کی مدد سے انجام دیئے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ایسا جدید فریم ورک بنانا ہے جس سے ٹیکنالوجی پر مبنی نمو حاصل ہو۔ سیشن کا اختتام ایک مکالماتی فائر سائیڈ چیٹ پر ہوا، جس میں ڈاکٹر عامر صوفی نے پاکستان کے لئے پالیسی ترجیحات پر مزید روشنی ڈالی اور متنوع شرکا کے سوالوں کے جواب دیئے۔