ایمازون نے 1,800 شمالی کوریائی شہریوں کو ملازمت کےلئے درخواست دینے سے روک دیا

واشنگٹن۔23دسمبر (اے پی پی):امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے کہا ہے کہ اس نے 1,800 سے زیادہ شمالی کوریائی شہریوں کو کمپنی میں ملازمت کے لئے درخواست دینے سے روک دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا آئی ٹی کارکنوں بیرونِ ملک کو بھیج کر رقوم کمانے اور انہیں خفیہ طریقوں سے منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی …

واشنگٹن۔23دسمبر (اے پی پی):امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے کہا ہے کہ اس نے 1,800 سے زیادہ شمالی کوریائی شہریوں کو کمپنی میں ملازمت کے لئے درخواست دینے سے روک دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا آئی ٹی کارکنوں بیرونِ ملک کو بھیج کر رقوم کمانے اور انہیں خفیہ طریقوں سے منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں ایمازون کے چیف سکیورٹی آفیسر سٹیفن شمٹ نے گزشتہ ہفتے بتایا کہ شمالی کوریائی کارکن دنیا بھر کی کمپنیوں، خصوصاً امریکا میں، ریموٹ آئی ٹی ملازمتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایمازون کو شمالی کوریائی شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں میں تقریباً ایک تہائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ افراد عموماً ’’لیپ ٹاپ فارمز‘‘ استعمال کرتے ہیں، یعنی امریکا میں موجود کمپیوٹرز کو بیرونِ ملک بیٹھ کر ریموٹ طریقے سے چلایا جاتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ صرف ایمازون تک محدود نہیں بلکہ ’’ممکنہ طور پر پوری انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر‘‘ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ شمالی کوریائی درخواست گزاروں کی شناخت کی علامات میں غلط فارمیٹ والے فون نمبرز اور مشکوک تعلیمی اسناد شامل ہیں۔جولائی میں امریکی ریاست ایریزونا کی ایک خاتون کو 8سال سے زائد قید کی سزا سنائی گئی تھی، جو شمالی کوریائی آئی ٹی کارکنوں کی مدد سے 300 سے زائد امریکی کمپنیوں میں ریموٹ نوکریاں دلوانے کے لئے لیپ ٹاپ فارم چلا رہی تھی۔ حکام کے مطابق اس سکیم سے خاتون اور شمالی کوریا نے ایک کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد کی آمدن حاصل کی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق گزشتہ 3 سال کے دوران شمالی کوریا سے منسلک سائبر مجرموں نے بالخصوص کرپٹو کرنسی کے ذریعے 3 ارب ڈالر سے زائد کی رقم چرائی ہے۔

 

مزید خبریں