پی آئی اے کی نجکاری بڑی اور تاریخی ڈیل تھی، قومی ایئر لائن کی سابقہ عظمت کو واپس لانے کا سفر تیزی سے شروع ہو گیا ہے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری بڑی اور تاریخی ڈیل تھی، قومی ایئر لائن کی سابقہ عظمت کو واپس لانے کا سفر تیزی سے شروع ہو گیا ہے۔ بدھ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی اور سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ کے ہمراہ …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری بڑی اور تاریخی ڈیل تھی، قومی ایئر لائن کی سابقہ عظمت کو واپس لانے کا سفر تیزی سے شروع ہو گیا ہے۔ بدھ کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی اور سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان اختر باجوہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری پر مشیر نجکاری محمد علی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، پی آئی اے کی نجکاری ایک تاریخی موقع ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی پالیسیوں میں یہ ایک لازمی حصہ تھا کہ نقصان میں جانے والی سٹیٹ اون انٹرپرائزز کی نجکاری کی جائے اور یہ اقدام ملکی معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پہلی ڈیل فرسٹ ویمن بینک کی تھی جس میں جی ٹو جی معاہدہ ہوا۔ اس کے بعد پی آئی اے کی بہت بڑی اور تاریخی ڈیل ہوئی، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر پی آئی اے کی بولی کا عمل براہ راست ٹی وی پر دکھایا گیا جسے پوری قوم نے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بولی کا عمل انتہائی شفاف تھا، ناقدین نے بھی اس پر اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسے ایک اچھی ڈیل قرار دیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ 1990ء کی دہائی سے ہم سنتے آ رہے تھے کہ پی آئی اے کی نجکاری ہو رہی ہے لیکن کبھی اس میں کامیابی نہیں ملی، اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہیں کہ آج یہ تاریخی دن ہے کہ پی آئی اے پرائیویٹائز ہو گئی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل اور پوری ٹیم کی کاوشیں اس کامیابی کا سبب ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے ماضی میں وہ دن بھی دیکھے جب دانستہ طور پر فلور آف دی ہائوس میں کھڑے ہو کر متنازعہ بیان دے کر پی آئی اے کے لئے یورپ اور امریکا کے روٹ بند کر دیئے گئے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں یہ روٹس دوبارہ کھلے۔ پی آئی اے کی مانچسٹر کیلئے فلائیٹس کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستانیوں نے پاکستان کا پرچم لے کر رن وے پر لائن لگا کر پی آئی اے کے جہاز کو ویلکم کیا جس سے لوگوں کی قومی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ڈایا سپوراقومی ایئر لائن کے ذریعے ملک واپس آنا چاہتا ہے کیونکہ ڈائریکٹ فلائیٹس سے 15 سے 16 گھنٹے بچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کا سالانہ خسارہ کبھی 35 ارب اور کبھی 50 ارب روپے تھا، 2023ء میں کہا گیا کہ 75 ارب روپے کا سالانہ خسارہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد یہ خسارہ اب قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہوگا، ٹیکس دہندگان کی جیب سے اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے ادائیگی نہیں ہوگی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مالیاتی ماہرین پوری دنیا میں اس ڈیل پر بات کر رہے ہیں اور یہ حکومت کی پالیسیوں، ایف بی آر کی ریفارمز اور ہوم گرون اکنامک ایجنڈے کی کامیابی کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایئر لائن کی سابقہ عظمت کو واپس لانے کا سفر تیزی سے شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ اون انٹرپرائزز کی نجکاری کے اقدامات جاری رہیں گے کیونکہ ہم نے پہلے روز نعرہ لگایا تھا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں، نجی شعبے کو آگے آنا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل پوری دنیا نے دیکھا، پی آئی اے کی ڈیل توقعات سے بڑھ کر شفاف تھی، پوری دنیا میں اچھا تاثر گیا ہے تاہم جن کو سمجھ نہیں آ رہی، ان کے لئے تین الفاظ ہیں ‘‘Get well soon’’