پشاور۔ 24 دسمبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی پشاور کے شعبہ اگرانومی کے زیر اہتمام بدھ کے روز صوبے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔زرعی یونیورسٹی پشاور تر جمان کے مطابق ورکشاپ کے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ایمرئٹس ڈاکٹر جہان بخت تھے۔اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد کھادوں کے پائیدار استعمال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا …
زرعی یونیورسٹی پشاور کے شعبہ اگرانومی کے زیر اہتمام صوبے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کیلئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد
پشاور۔ 24 دسمبر (اے پی پی):زرعی یونیورسٹی پشاور کے شعبہ اگرانومی کے زیر اہتمام بدھ کے روز صوبے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔زرعی یونیورسٹی پشاور تر جمان کے مطابق ورکشاپ کے اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ایمرئٹس ڈاکٹر جہان بخت تھے۔اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد کھادوں کے پائیدار استعمال کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا، اس دوران فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، معیار کی بہتری، غذائیت سے بھرپور پیداوار (بائیوفورٹیفکیشن) اور غذائی تحفظ کے لئے کھادوں کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور ساتھ ہی کسانوں کو درپیش سنگین مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا، پاکستان اور خیبر پختونخوا میں کھادوں کی بڑھتی قیمتیں، مٹی کی زرخیزی میں کمی، اور کھاد کے استعمال کی انتہائی کم کارکردگی شامل تھے۔وائس چانسلر پروفیسر ایمرئٹس ڈاکٹر جہان بخت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں
اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں ماہرینِ زراعت اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی علمی و فنی مہارتیں بروئے کار لائیں اور جدید تحقیق کو عملی میدان میں منتقل کریں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے اکثر کسان کھادوں کے درست اور متوازن استعمال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہیں، جس کے باعث نہ صرف پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ مٹی کی زرخیزی اور ماحولیاتی توازن بھی بگڑتا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متوازن کھادوں کے بروقت اور سائنسی بنیادوں پر استعمال سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، زمین کی صحت برقرار رہتی ہے اور ماحول کو آلودگی سے بچایا جا سکتا ہے،غیر متوازن اور بے جا کھادوں کا استعمال زمینی و آبی وسائل کو نقصان پہنچا رہا ہے، جس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔وائس چانسلر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ مختلف وجوہات، جیسے شہری پھیلاؤ، صنعتی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی اراضی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
ایسے حالات میں محدود وسائل کے ساتھ زیادہ اور معیاری پیداوار حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار زرعی نظام، جدید ٹیکنالوجی، کسانوں کی تربیت اور تحقیق و توسیع کے مؤثر رابطے کے ذریعے ہی ہم غذائی تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ زرعی یونیورسٹیاں، تحقیقاتی ادارے اور ماہرین مل کر کسانوں کی رہنمائی کریں گے تاکہ جدید اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے اور ملک کو غذائی خودکفالت کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔چیئرمین شعبہ اگرانومی پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف نے مہمان خصوصی اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔چیف آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ نے تربیتی ورکشاپ کے مقاصد اور ان کے دوررس نتائج پر بریفنگ دی۔اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ہمایون خان
پروفیسر ڈاکٹر انعام اللہ، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ارشد خان سمیت صوبے کے مختلف شعبوں کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ایمرئٹس ڈاکٹر جہان بخت نے ڈین پروفیسر ڈاکٹر ہمایون خان کے ہمراہ شیلڈز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کئے۔









