اسلام آباد ۔ 5 ستمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے برکس اعلامیہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، 40 فیصد افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے‘پاکستان نے کامیاب انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے جو امریکا‘ عراق وافغانستان بھی نہ کرسکا لیکن عالمی برادری نے ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کارروائیوں کوتسلیم نہیں کیا۔وہ منگل کو قومی اسمبلی …
وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 ستمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے برکس اعلامیہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں، 40 فیصد افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ ہے‘پاکستان نے کامیاب انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے جو امریکا‘ عراق وافغانستان بھی نہ کرسکا لیکن عالمی برادری نے ضرب عضب اور ردالفساد کے تحت کارروائیوں کوتسلیم نہیں کیا۔وہ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان برکس اعلامیے کو مسترد کر تا ہے ‘پاکستان کے اندر اس وقت دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں ‘ زیادہ تر حقانی نیٹ ورک کے دہشت گرد افغانستان میں مارے جاتے ہیں جب کہ پاکستان میں حملوں کے تانے بانے بھی وہیں سے ملتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔








