برآمدات معیشت کی ریڑھ کی ہڈی، حکومت برآمدات کے فروغ اور تاجر مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، رانا تنویر حسین

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی مضبوط معیشت ہی ملکی اقتصادی استحکام کی بنیاد ہے، حکومت برآمدات کے فروغ اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے جبکہ ملکی ترقی میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں سفارتی سطح پر …

اسلام آباد۔26دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی مضبوط معیشت ہی ملکی اقتصادی استحکام کی بنیاد ہے، حکومت برآمدات کے فروغ اور برآمد کنندگان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے جبکہ ملکی ترقی میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں سفارتی سطح پر پاکستان کو متعدد کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر صدر لاہور ایوانِ صنعت و تجارت فہیم الرحمن سہگل، چیمبر کے ممبران اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اپنی خواہش پر تاجر برادری سے ملاقات کے لیے آئے ہیں، ملکی برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت اور تاجر برادری کو مل بیٹھ کر جامع لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے کیونکہ برآمدات میں اضافہ ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہمیں اپنی برآمدات بڑھانا ہوں گی تاکہ معیشت مستحکم ہو سکے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کو تاجر برادری کو درپیش مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور ماضی کی طرح اب بھی ان کے حل کے لیے پیش پیش ہے۔ حکومت نے مشکلات کے باوجود سہولیات فراہم کی ہیں، برآمدی کپاس پر ٹیکس کم کیا گیا ہے اور آئندہ مزید کمی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ دو برسوں میں بزنس کمیونٹی سے جتنی ملاقاتیں کی ہیں، اتنی ماضی میں کسی نے نہیں کیں۔ حکومت بزنس فرینڈلی پالیسیوں اور جی ڈی پی میں اضافے کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو بارہا بڑے پیکجز دیے گئے، پچاس پچاس ارب روپے تک کے پیکجز بھی فراہم کیے گئے، شرح سود اور پالیسی ریٹ میں بھی کمی کی گئی تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ پالیسی ریٹ مزید کم کیا گیا ہے اور امید ہے کہ یہ سنگل ڈیجٹ میں آ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جسے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے برآمدات کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی صنعت اور کسانوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی تاکید کی تاکہ عالمی مقابلے میں معیار اور پیداوار میں بہتری لائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک زراعت کا 60 فیصد حصہ ہے اور اس کی برآمدات بھی ہو رہی ہیں تاہم کوالٹی بہتر بنا کر اس شعبے میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال فوڈ کی دنیا میں بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے، غیر مسلم ممالک بھی بڑی مقدار میں حلال فوڈ برآمد کر رہے ہیں،

اس لیے پاکستان کو بھی اس شعبے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اور کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کی جائیں گی۔رانا تنویر حسین نے بتایا کہ بیجوں کے معیار پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور کسانوں کو تصدیق شدہ بیج فراہم کیے جائیں گے۔ کھادوں کی قیمتیں یکساں رکھی گئی ہیں اور ان کی سپلائی بھی بلا تعطل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور بیرونِ ملک سفیروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پاکستانی برآمدات کے فروغ کے لیے کام کریں، یہی وزیر اعظم کا بھی پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت دن رات برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور ایڈیبل آئٹمز، گوشت، لائیو اسٹاک، چاول اور دیگر اجناس کی بیرونی منڈیوں میں موجود طلب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ تجارت بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ایران کو تین لاکھ ٹن چاول برآمد کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ زیتون اور فشریز بھی بڑے شعبے ہیں، پاکستان کو بالخصوص افریقی اور دیگر ابھرتی ہوئی منڈیوں تک برآمدات کی رسائی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے پالیسیوں کا تسلسل نہایت ضروری ہے تاہم ماضی میں سیاسی حکومتوں کی بار بار تبدیلی کے باعث معاشی شعبہ متاثر رہا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے سفارتی سطح پر پاکستان کو نمایاں کامیابیاں ملی ہیں اور آنے والے دنوں میں ملک مزید ترقی کرے گا۔اس موقع پر صدر لاہور ایوانِ صنعت و تجارت اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ برآمداتی اہداف کے حصول کے لیے بزنس کمیونٹی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔