اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) ملک میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے محض ایک مالی معاون ادارے سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں این ڈی آر ایم ایف پاکستان کا پہلا قومی سطح کا ڈیزاسٹر رسک انشورنس فریم ورک متعارف کرانے جا رہا ہےجس کا …
این ڈی آر ایم ایف پاکستان کا پہلا ڈیزاسٹر رسک انشورنس فریم ورک متعارف کرانے جا رہا ہے،آب و ہوا سے محفوظ لچکدار نظام کی جانب اہم قدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔28دسمبر (اے پی پی):نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ (این ڈی آر ایم ایف) ملک میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے محض ایک مالی معاون ادارے سے آگے بڑھتے ہوئے ایک مؤثر اور قائدانہ کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں این ڈی آر ایم ایف پاکستان کا پہلا قومی سطح کا ڈیزاسٹر رسک انشورنس فریم ورک متعارف کرانے جا رہا ہےجس کا مقصد ملک میں کلائمیٹ پروف لچکدار نظام کو یقینی بنانا ہے۔
اتوار کواین ڈی آر ایم ایف کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال انور نے اے پی پی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ فنڈ اپنے قیام کے بعد سے اب تک ایک سہولت کار ادارے کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا ہے اور اس نے تقریباً 32 غیر سرکاری تنظیموں کو فنڈ امپلیمنٹنگ پارٹنرز (ایف آئی پیز) کے طور پر منظور کیا ہے۔ ان اداروں کو قدرتی آفات سے متعلق پاکستان کے پہلے نیچرل کیٹا اسٹر وفی (NatCat) ماڈل پر خصوصی تربیت بھی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک انشورنس فریم ورک کی تیاری این ڈی آر ایم ایف کے مینڈیٹ کا حصہ ہےجس کے تحت مختلف ڈیزاسٹر رسک ٹرانسفر میکانزمز بشمول انشورنس کی حدود کا تعین کیا جا رہا ہے۔
اس اقدام کا مقصد آفات کے بعد بحالی کے لیے نجی شعبے کی مالی معاونت کو بروئے کار لانا اور محدود سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرنا ہے۔بلال انور کے مطابق ایک سال پر محیط محنت کے بعد اس فریم ورک کو ابتدائی طور پر اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی ) کے اسکولوں میں نافذ کیا جائے گاجس کے بعد اسے زرعی شعبے، فصلوں، مویشیوں اور دیگر شعبوں تک توسیع دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انشورنس مارکیٹ محدود ہے اور مالیاتی شعبہ ابھی مکمل طور پر اس سطح کے خطرات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تاہم این ڈی آر ایم ایف خود انشورنس کمپنی نہیں بنے گا بلکہ انشورنس سیکٹر کو تکنیکی معاونت فراہم کر کے اس نظام کو فعال بنانے میں کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کم آمدنی والے متاثرہ طبقات کے لیے انشورنس پریمیم کو فنڈ کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی۔سی ای او این ڈی آر ایم ایف کے مطابق NatCat رسک ماڈل ایک مقامی اور پاکستان کے مخصوص حالات کے مطابق تیار کردہ ماڈل ہےجسے قومی اور صوبائی سطح پر مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس ماڈل کی مدد سے انشورنس پریمیم کو حقیقت پسندانہ بنایا جا سکے گا جو ماضی میں علاقائی ماڈلز کی بنیاد پر غیر حقیقی ہوا کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ این ڈی آر ایم ایف عالمی موسمیاتی فنانس کے حصول میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے پروجیکٹ پریپیریشن فیسلٹی قائم کی گئی ہے تاکہ قومی اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
بلال انور نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک انشورنس کو مذہبی، ثقافتی اور مارکیٹ سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے تاہم یہ نظام سماجی تحفظ کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر عوامی اعتماد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی آر ایم ایف مستقبل میں ایک کیٹالسٹ فنڈ کے طور پر مختلف فنڈز کا انتظام کرے گا اور ڈیزاسٹر رسک انشورنس اور رسک ماڈلنگ جیسے نئے شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔








