میانوالی ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وطن عزیز سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے منصوبے آئندہ سال جون سے پہلے مکمل ہو جائیں گے، بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے اور امید ہے کہ ہم نومبر 2017ءکے بعد ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں …
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا چشمہ پاور پلانٹ سی فور کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب

مزید خبریں
میانوالی ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وطن عزیز سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، 10 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے منصوبے آئندہ سال جون سے پہلے مکمل ہو جائیں گے، بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے اور امید ہے کہ ہم نومبر 2017ءکے بعد ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گے، جوہری توانائی کا منصوبہ 2020ءتک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو دیئے جانے والے 8800 میگاواٹ کے ہدف کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ ہماری حکومت نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے تحت بہت سے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ملک کی شرح ترقی پانچ فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو اس سال 6 فیصد کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ جمعہ کو چشمہ پاور پلانٹ سی فور کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر مملکت برائے توانائی عابد شیر علی، چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم، چین کے سفیر سن وئی ڈونگ، ڈائریکٹر جنرل ایس پی ڈی لیفٹیننٹ جنرل مظہر نوید، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر پاور سید یوسف رضا، چینی کمپنیوں کے نمائندوں اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 28 دسمبر 2016ءمیں چشمہ یونٹ تھری کے باقاعدہ آغاز کے صرف آٹھ ماہ بعد ملک کے پانچویں جوہری بجلی گھر چشمہ یونٹ فور کے افتتاح باعث افتخار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ جب چشمہ یونٹ 1 کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت بھی ملک میں محمد نواز شریف کی حکومت تھی اور اسی معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں تعاون کی بنیاد رکھی۔ چشمہ میں چلنے والے تینوں یونٹ ملک میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں اور اس وقت ملک کو 900 میگا واٹ سے زائد بجلی ارزاں نرخ پر فراہم کر رہے ہیں۔








