حیدرآباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام نے زرعی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کَلر زدہ اور شور زدہ زمین پر بیری کی کاشت کا 15 ایکڑ پر مشتمل تجرباتی بلاک قائم کر دیا ہے جبکہ یونیورسٹی کے لطیف فارم پر سرسوں اور گندم کی مختلف جدید اقسام پر بھی تجرباتی فصلیں کاشت کی گئی ہیں۔اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس …
سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام نے زرعی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کَلر زدہ اور شور زدہ زمین پر بیری کی کاشت کا 15 ایکڑ پر مشتمل تجرباتی بلاک قائم کر دیا

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 31 دسمبر (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام نے زرعی تحقیق کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے کَلر زدہ اور شور زدہ زمین پر بیری کی کاشت کا 15 ایکڑ پر مشتمل تجرباتی بلاک قائم کر دیا ہے جبکہ یونیورسٹی کے لطیف فارم پر سرسوں اور گندم کی مختلف جدید اقسام پر بھی تجرباتی فصلیں کاشت کی گئی ہیں۔اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے لطیف فارم کا دورہ کیا،
جہاں انہوں نے کَلر زدہ زمین پر قائم کیے گئے نئے بیری کے تجرباتی بلاک کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر فارمز ڈاکٹر محمد مِٹھل لوند نے وائس چانسلر کو مختلف فصلوں پر جاری تحقیق، تجربات اور ابتدائی نتائج کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وائس چانسلر کو بتایا گیا کہ بیری کا یہ تجربہ خصوصی طور پر ایسی زمین کے لیے کیا جا رہا ہے جو ماضی میں کاشت کے قابل نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اسی طرح گندم کی 10 سے 11 مختلف ’’پری بیسک‘‘ اقسام بھی کاشت کی گئی ہیں، جن سے تیار ہونے والا معیاری بیج آئندہ گندم کے سیزن میں مقامی کاشتکاروں کو فراہم کیا جائے گا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ اُبھرے ہوئے کھروں پر سرسوں کی دو جدید اقسام ’’کیزولا‘‘ اور ’’میزولا‘‘ کاشت کی گئی ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’’میزولا‘‘ قسم میں یورک ایسڈ کی مقدار مکمل طور پر صفر ہے، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مفید ہے، جب’’کیزولا‘‘ایک زیادہ پیداوار دینے والی قسم ہے، جو کاشتکاروں کے لیے معاشی طور پر اہم ثابت ہو سکتی ہے۔وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے یونیورسٹی کے محقق پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم بُکیرو کے بصر سے متعلق تحقیقی منصوبے کے ساتھ ساتھ کیلے اور آم کے باغات کا بھی معائنہ کیا اور تحقیقاتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں وائس چانسلر نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی کا بنیادی مقصد ایسی تحقیق کو فروغ دینا ہے جو براہِ راست کسانوں، آبادگاروں اور صوبے کی زرعی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو۔ کَلر زدہ اور شور زدہ زمین سندھ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اگر ایسی زمین کو بیری جیسے فصلوں کے ذریعے قابلِ کاشت بنایا جائے تو یہ زرعی انقلاب کے مترادف ہوگا۔
یونیورسٹی جدید تحقیق، معیاری بیج اور موسمی حالات سے ہم آہنگ فصلوں کے ذریعے کسانوں کی پیداوار بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔وائس چانسلر نے مزید یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ لطیف فارم میں موجود دفاتر اور دیگر عمارتوں کی مرمت، رنگ و روغن اور بہتری کے لیے جلد پی سی۔ون تیار کیا جائے گا تاکہ تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔








