2025 میں 2.36 ارب روپے کے جرمانے عائد ، 93 کروڑ روپے ریکور اور خلاف ورزیوں پر 47 شوکاز نوٹس جاری کیے ،مسابقتی کمیشن

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):مسابقتی کمیشن پاکستان نے سال 2025 کے دوران مختلف سیکٹر کی مارکیٹوں میں کارٹلائزیشن، گٹھ جوڑ سے قیمتوں کو فکس کرنے، مارکیٹ میں گٹھ جوڑ بنانے کے ممنوعہ معاہدوں اور گمراہ کن تشہیری سرگرمیوں پر 2.363 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے، سال کے دوران کمیشن نے 93 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار روپے کے جرمانے ریکور کیے اور کمپٹیشن کے قانون کی ممکنہ خلاف ورزی …

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):مسابقتی کمیشن پاکستان نے سال 2025 کے دوران مختلف سیکٹر کی مارکیٹوں میں کارٹلائزیشن، گٹھ جوڑ سے قیمتوں کو فکس کرنے، مارکیٹ میں گٹھ جوڑ بنانے کے ممنوعہ معاہدوں اور گمراہ کن تشہیری سرگرمیوں پر 2.363 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے، سال کے دوران کمیشن نے 93 کروڑ 25 لاکھ 60 ہزار روپے کے جرمانے ریکور کیے اور کمپٹیشن کے قانون کی ممکنہ خلاف ورزی پر 47 شوکاز نوٹس جاری کیے۔

جمعرات کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ سال کے دوران مسابقتی کمیشن نے مختلف عدالتوں اور کمپٹیشن ٹربیونل میں زیر التوا مقدمات اور اپیلوں کی موثر پیروی کی اور عدالتوں نے کمیشن کے 567 زیر التو زیر التوا مقدمات میں سے 434 مقدمات پر فیصلے سنائے جس سے زیر التوا مقدمات کے بیک لاک میں 70 فیصد کمی ہوئی۔

مزید برآں کمیشن مسابقتی ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد گیارہ فیصلے جاری کیے، ان میں پانچ فیصلے کارٹلائزیشن اور ممنوعہ معاہدوں سے متعلق تھے جبکہ چار فیصلے گمراہ کن تشہیر کے خلاف جاری کرتے ہوئے جرمانے عائد کئے۔ اس کے علاوہ کنزیومر گٖڈزکے شعبے میں ایک کیس میں شواہد کی عدم موجودگی پر شوکاز نوٹس کو ختم کر دیا گیا۔

ایک اور بڑا فیصلہ ٹیلی کام کے شعبے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کے حصول کی منظوری تھا۔ پی ٹی سی ایل اورٹیلی نار کی ٹرانزیکشن عالمی سطح پر نمایاں اور منفرد نوعیت کی حامل تھی جس میں پانچ مختلف مارکیٹس میں تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مشروط فیصلہ جاری کیا گیا۔سال 2025 کے دوران کمیشن نے کارٹل اور گٹھ جوڑ بنانے اور گمراہ کن تشہیر پر مختلف شعبوں میں 2.363 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے۔

ان میں عائشہ سٹیل ملز لمیٹڈ اور انٹرنیشنل سٹیلز لمیٹڈ پر قیمتوں کے تعین (پرائس فکسنگ)پر 1.562 ارب روپے، چھ فرٹیلائزر مینوفیکچررز اور ان کی ایڈوائزری کونسل پر 37 کروڑ روپے جبکہ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن اور آٹھ ڈے اولڈ چکس کمپنیوں پر قیمتیں فکس کرنے پر 15 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

اس کے علاوہ گمراہ کن تشہیر اور ممنوعہ معاہدوں پر ہنڈائی نشاط موٹرز، الغازی ٹریکٹرز، برٹش لائسیم، کنگڈم ویلی دواسازی کے ڈسٹری بیوٹرز اور ٹرانسپورٹرز کی ایسوسی ایشنز پر بھی جرمانے عائد کیے گئے۔سال 2025 میں انفورسمنٹ کی کارروائیوں کے تحت مسابقتی کمیشن نے 47 شوکاز نوٹس جاری کیے، ان میں 14 نوٹس گمراہ کن تشہیر پر کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) کی کمپنیوں، سرٹیفکیشن سروسز اور ویٹرنری ادویات فراہم کرنے والے اداروں جبکہ بیس نوٹس نجی تعلیمی اداروں کو کمپٹیشن کے قوانین کی خلاف ورزی پر جاری کیے گئے۔

اسی طرح کارٹلائزیشن پر 13 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے جن میں دس شوگر ملز، دو سٹیل ملز اور خوردنی تیل کے ٹرانسپورٹرز کی ایک ایسوسی ایشن شامل تھی۔ بیشتر انفورسمنٹ کی کاروائیاں براہِ راست عوام اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کے پیش نظر کی گئیں ۔کمیشن کے فیصلوں کی کمپلائنس کو مؤثر بناتے ہوئےمسابقتی کمیشن نے 93 کروڑ روپے ریکور کیے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران جرمانوں کی مجموعی وصولیاں ایک ارب 19 کروڑ روپے سے زائد ہو گئی ہیں۔

کمیشن کے قیام کے بعد سے گزشتہ 17 برسوں میں جرمانوں کی مجموعی ریکوری دو کروڑ روپے تھی۔اس سال کمیشن نے توانائی و بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن، خدمات، صنعتی و مینوفیکچرنگ، مالیاتی خدمات، صارفین کی اشیا اور رئیل سٹیٹ سمیت 34 شعبوں میں 159 مرجرٹرانزیکشن کی منظوری دی ۔ اس عرصے کے دوران سب سے اہم ٹرانزیکشن پی ٹی سی ایل کی جانب سے ٹیلی نار کے حصول کی تھی۔ دیگر ٹرانزیکشنز میں شیل پاکستان کا وفی انرجی کے ذریعے حصول، سادہ پے کے شیئرز کی منتقلی، لوٹے کیمیکل پاکستان کا لین دین، ٹوٹل پارکو کی تنظیمِ نو اور ٹی سی ایس لاجسٹکس کا حصول شامل تھا۔

مسابقتی کمیشن ملک بھر میں انفورسمنٹ کو مزید مستحکم بنانے کے پیش نظر ملک کے بڑے شہروں میں دفاتر قائم کئے جائیں گے تاکہ مارکیٹ تک رسائی اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط بہتر بنائے جا سکیں اور پاکستان بھر میں مسابقتی کمیشن کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جا ئے۔