لاڑکانہ کے امرود مٹھاس اور ذائقہ سے مشہور

محمودخان ابڑو لاڑکانہ ۔1جنوری (اے پی پی):امرود کی پیداوار کی ابتدا ایک ایسے علاقے سے ہوئی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ میکسیکو، وسطی امریکا یا شمالی جنوبی امریکہ کے پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تاہم تاریخ میں امرود کی کاشت کے ثبوت 2500 قبل مسیح کے اوائل میں ملتے ہیں۔آج کل تو امرود کی کاشت کئی ممالک میں کی جارہی ہے۔ اس کی …

محمودخان ابڑو

لاڑکانہ ۔1جنوری (اے پی پی):امرود کی پیداوار کی ابتدا ایک ایسے علاقے سے ہوئی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ میکسیکو، وسطی امریکا یا شمالی جنوبی امریکہ کے پورے خطے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تاہم تاریخ میں امرود کی کاشت کے ثبوت 2500 قبل مسیح کے اوائل میں ملتے ہیں۔آج کل تو امرود کی کاشت کئی ممالک میں کی جارہی ہے۔ اس کی کاشت تجارتی طور پر کی جاتی ہیں۔امرود جنوب مغربی یورپ میں بھی اگتے ہیں، خاص طور پر سپین اور یونان میں جہاں امرود تجارتی طور پر 20ویں صدی کے وسط سے ہی اگائے جارہے ہیں۔

امرود سدا بہار جھاڑی نما درمیانہ درجے کا درخت ہوتا ہے جس کا ہموار سبز سے سرخ بھوری چھال کے ساتھ ایک پتلا تنا ہوتا ہے۔ امرود کا پھل لمبا اور بیضوی شکل میں اور سبز سے پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔شروع شروع میں امرود کے پودے کو بہترین پھول اور پھل کی پیداوار کے لیے پوری دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے تاہم بڑا ہونے کے بعد امرودکا درخت خشک اور گرم موسم میں بغیر پانی کے بھی زندہ رہ سکتا ہے ۔

ماہرین غذائیات امرود کے پھل کو کینسر سے بچا ئو میں مفید اور بینائی کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں۔امرود خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے میں مدد کر تاہے، یہ وزن کم کرنے ، قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے اورنظام انہضام کو فائدہ پہنچا تا ہے۔ امرود متعدد بیماریوں کا روایتی علاج ہے۔ امرود پاکستان میں بھی بڑی مقدار پیدا ہوتا ہے ،لاڑکانہ امرود کی پیداوار کے لحاظ سے ملک بھر میں اپنی پہچان رکھتا ہے۔

یہاں کے امرود نہ صرف ملک بھر بلکہ بیرون ممالک بھی برآمد کئے جاتے ہیں۔لاڑکانہ کے امرود ملک کے بڑے شہروں کی منڈیوں میں جاتے ہیں،جس میں خاص کر کراچی، کوئٹہ، لاہور، پشاور سمیت افغانستان اور ایران اور وہاں سے وسطی ایشیائی ممالک تک برآمد کئے جاتے ہیں۔ سردی کی شدت سے امرود کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے تاہم شدید سردی سے چھوٹے پھلوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

لاڑکانہ کا امرود مشہور ہے، جو سردیوں میں اپنے مٹھاس کی بنیاد پر منفرد حیثیت رکھتا ہے ،لاڑکانہ کے مختلف علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زمین پر مشتمل امرود کی کاشت ہوتی ہے، جس سے یہ پورے علاقے سمیت ملک کو فراہم کئے جاتے ہیں ۔لاڑکانہ کا امرود اپنی خوشبو کوالٹی اور منفرد ذائقہ میں ملک بھر میں مشہور ہے ۔لاڑکانہ کے امرود کی ایک قسم کا نام سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر بھی رکھا گیا ہے ۔اسی قسم کے امرود کی زیادہ تر پیدا وار لاڑکانہ میں پیدا ہوتی ہے اور ان میں مٹھاس اور ذائقہ زیادہ ہوتا ہے۔

لاڑکانہ کو امرود کے باغوں کا شہر کہا جاتا ہے، جس کے گرد و نواح میں امرود کے باغات ہیں ۔یہاں فروٹ منڈی نہ ہونے سے زمینداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب امردو کاٹنے والے مزدوروں کو بھی اس مہنگائی کے دور میں امردو کی کٹائی کے عوض مزدوری کم ملتی ہے۔مقامی لوگ باغات میں آکر تازہ امردو خرید لیتے ہیں۔ چھٹی کے دن اکثر فیملیز اپنے بچوں کے ساتھ یہاں امرود کے باغات کا رخ کرتی ہیں ۔

مزید خبریں