پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ اجلاس رواں سال کے آخر میں ہوگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے، افغانستان میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا خواجہ محمد آصف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بیجنگ ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ …
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا خواجہ محمد آصف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا پہلا باضابطہ اجلاس رواں سال کے آخر میں ہوگا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے، افغانستان میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے
چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کا خواجہ محمد آصف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
بیجنگ ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے کہا ہے کہ پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے مابین پہلا باضابطہ اجلاس رواں سال کے آخر میں ہو گا۔ جمعہ کو وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے تین ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی ہے جن میں سٹرٹیجک کمیونیکیشن، سکیورٹی ڈائیلاگ اور عملی تعاون شامل ہیں اور اس بنیاد پر ہم آسان تر امور سے آغاز کرتے ہوئے سہ فریقی تعاون پر اور علاقائی تعاون کےلئے نئے پلیٹ فارم کی تشکیل کے مقصد کے ساتھ کام کریں گے۔ وانگ ژی نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا، افغانستان میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات مثالی ہیں اور پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے لئے چین کی حمایت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تنازعہ کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، پاک۔افغان ایشوز کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر افغان مسئلہ کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔








