وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد بارے قومی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کئے جائیں تاکہ قبائلی علاقوں کے عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کے برابر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے یہ بات …

اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کئے جائیں تاکہ قبائلی علاقوں کے عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے عوام کے برابر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے بارے میں قومی کمیٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں شریک کمیٹی کے دیگر ارکان میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وزیر قانون و انصاف زاہد حامد، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز اور سینئر سول و عسکری حکام شامل تھے۔ کمیٹی نے فاٹا اصلاحات پر پارلیمنٹ اور قبائلی علاقوں کے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا جن کی منظوری کابینہ نے 2 مارچ کو دی تھی۔ کمیٹی نے اصلاحات پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے کے لئے کئی فیصلے بھی کئے۔ کمیٹی نے پولیس کی تیزی سے بھرتی اور تربیت کے بعد پولیس امور کار کی انجام دہی کے لئے کچھ تعداد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ازسرنو تعیناتی کی منظوری دی۔ عبوری مدت کے لئے مناسب انتظامی نظام قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ عبوری عرصے کے لئے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے کی تخلیق کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمیٹی کو گزشتہ چند برسوں کے دوران پورے فاٹا میں ریاستی عملداری قائم ہونے کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور سیکورٹی اور بارڈر انفراسٹرکچر کو تقویت دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ترقیاتی کاوشوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد فاٹا کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے جنہوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران طویل جنگ، شورش اور بڑے پیمانے پر بے گھر ہونے کی بنا پر مشکلات اٹھائی ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply