منشیات سے متعلق صوبائی قانون کے تحت سزا غیر آئینی، وفاقی قانون لاگو ہوگا، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے منشیات کے ایک مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143 کے منافی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل …

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے منشیات کے ایک مقدمے میں اہم آئینی نکتہ طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی قانون کی موجودگی میں صوبائی قانون کے تحت زیادہ سخت سزا دینا آئین کے آرٹیکل 143 کے منافی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل بینچ نے ساجد خان کی فوجداری درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔

درخواست گزار کو پشاور ہائی کورٹ نے منشیات کے مقدمے میں صوبائی قانون کے تحت سزا برقرار رکھی تھی۔عدالت کے مطابق ساجد خان کے خلاف ایف آئی آر کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 (وفاقی قانون) کے تحت درج کی گئی تھی تاہم ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ نے انہیں خیبر پختونخوا کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 2019 کے تحت سزا سنائی جو وفاقی قانون کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت کسی بھی معاملے میں وفاقی قانون کو صوبائی قانون پر فوقیت حاصل ہے، لہٰذا صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا آئینی طور پر درست نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی قانون کے تحت دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کی سزا میں نمایاں کمی کر دی۔

عدالت نے ساجد خان کو اب وفاقی قانون کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال قیدِ بامشقت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جبکہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دو ماہ قید زیادہ بھگتنا ہوگی۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ فیصلے کی کاپی چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان، اٹارنی جنرل پاکستان اور وزارت قانون و انصاف کو آگاہی اور ضروری کارروائی کے لیے ارسال کی جائے۔