متوفی سرکاری ملازمین کے کوٹے پر تقرریاں برقرار، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی اپیلیں خارج کر دیں

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے متوفی سرکاری ملازمین کے بچوں اور ورثاء کو ملازمت دینے سے متعلق اہم فیصلے میں سندھ حکومت کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات برقرار رکھے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عطاء من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنھور پر مشتمل تین …

اسلام آباد۔1جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے متوفی سرکاری ملازمین کے بچوں اور ورثاء کو ملازمت دینے سے متعلق اہم فیصلے میں سندھ حکومت کی تمام اپیلیں خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات برقرار رکھے ہیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عطاء من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنھور پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی جانب سے دائر متعدد سول اپیلوں اور ایک درخواست اجازت اپیل پر سماعت کے بعد متفقہ فیصلہ سنایا۔

عدالت کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے متوفی کوٹے کے تحت ملازمت سے متعلق آئین درخواستیں اس وقت منظور کیں جب سندھ سول سرونٹس (اپائنٹمنٹ، پروموشن اینڈ ٹرانسفر) رولز 1974 کا رول 11-A پوری طرح نافذ العمل تھا، لہٰذا ان فیصلوں کو بعد میں آنے والے کسی عدالتی فیصلے کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ رول 11-A ایک فلاحی اور مفید قانون تھا جس کا مقصد دوران ملازمت وفات پانے والے، معذور یا نااہل قرار دیئے گئے سرکاری ملازمین کے خاندانوں کو سہارا دینا تھا۔

ایسے فلاحی قوانین کی تشریح ہمیشہ وسیع، مقاصد پر مبنی اور ہمدردانہ انداز میں کی جانی چاہیے تاکہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔عدالت نے سندھ حکومت کا یہ موقف مسترد کر دیا کہ درخواست گزاروں نے مقررہ دو سالہ مدت میں ملازمت کے لیے درخواست نہیں دی۔ سپریم کورٹ کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کی وفات کے وقت اس کے بچے نابالغ ہوں اور بیوہ کو ملازمت نہ دی گئی ہو تو بچوں کے بالغ ہونے پر درخواست دینے کے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ جنرل پوسٹ آفس اسلام آباد کیس (PLD 2024 SC 1276) میں رول 11-A کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آئندہ کے لیے نافذ ہوگا اور اس کا اطلاق ماضی میں طے شدہ اور حتمی نوعیت اختیار کر چکے معاملات پر نہیں ہوگا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے عمومی طور پر مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک واضح طور پر ماضی سے لاگو کرنے کا اعلان نہ کیا جائے۔

سابقہ اور بند ہو چکے مقدمات کو دوبارہ کھولنا عدالتی فیصلوں کی قطعیت کے اصول کے خلاف ہے۔عدالت نے نتیجتاً سندھ حکومت کی جانب سے دائر تمام سول اپیلیں اور درخواست اجازت اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کو برقرار رکھا۔