اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان نے درختوں اور جنگلات کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلات آب و ہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام میں بڑی مدد کرتے ہیں جو کہ اپنی قوت بدولت 72 گھنٹوں کیلئے سیلاب کو بھی روک سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ بھی مطلوبہ معیار سے کم …
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان کی قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 8 ستمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان نے درختوں اور جنگلات کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگلات آب و ہوا کی تبدیلیوں کی روک تھام میں بڑی مدد کرتے ہیں جو کہ اپنی قوت بدولت 72 گھنٹوں کیلئے سیلاب کو بھی روک سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ بھی مطلوبہ معیار سے کم ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں 12 فیصد سے بھی کم رقبہ پر جنگلات ہیں۔ انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کے سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہی جس میں پنجاب میں جنگلات کے انحطاط اور راول جھیل میں آلودگی کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون آبی گزرگاہوں کے ساتھ آباد کاری کی ممانعت کرتا ہے، ڈینگی جیسے امراض بھی موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ درجہ حرارت میں اضافہ سے مچھروں کی افزائش ہوتی ہے۔ قبل ازیں پنجاب کے سیکرٹری جنگلات نے اجلاس کے شرکاءکو پنجاب میں سبزہ کو پہنچنے والے نقصانات چارہ جات کی پیداوار میں کمی، جنگلات کی کم پیداوار جیسے سات اہم مسائل کے بارے میں بریف کیا۔








