پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور یو اے ای کے وزرائے خارجہ کا غزہ کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو شدید، سخت اور غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔ جمعہ کو دفتر خارجہ کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو شدید، سخت اور غیر مستحکم موسمی حالات بشمول موسلا دھار بارشوں اور طوفانوں کے باعث مزید سنگین ہو چکی ہے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ناکافی انسانی رسائی، جان بچانے والی ضروری اشیاءکی شدید قلت اور بنیادی خدمات کی بحالی اور عارضی رہائش کے قیام کےلئے درکار لازمی مواد کی سست رفتار ترسیل کے باعث مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ وزراء خارجہ نے اس امر کی نشاندہی کی کہ شدید موسمی حالات نے موجودہ انسانی حالات کی نازک حیثیت کو بے نقاب کر دیا ہے بالخصوص تقریباً 19 لاکھ افراد اور بے گھر خاندانوں کےلئے جو ناکافی پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، پہلے سے متاثرہ عمارتوں کا انہدام اور غذائی قلت کے ساتھ سرد موسم کی شدت نے شہری جانوں کےلئے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جن میں خاص طور پر بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی طور پر کمزور افراد کےلئے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی تمام تنظیموں اور اداروں بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے اور انسانی ہمدردی پر مبنی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا جو انتہائی مشکل اور پیچیدہ حالات کے باوجود فلسطینی شہریوں کی مدد اور انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس امر کو یقینی بنائے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز غزہ اور مغربی کنارے میں پائیداراور بلا رکاوٹ انداز میں کام کرسکیں کیونکہ غزہ میں انسانی امدادی ردعمل میں ان کا کردار نہایت اہم ہے۔ وزراء خارجہ نے کہا کہ ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس کے کامیاب عملدرآمد میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ جنگ بندی کے استحکام کو یقینی بنایا جاسکے،

غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو، طویل انسانی مصائب جھیلنے والے فلسطینی عوام کے لیے باعزت زندگی ممکن بنائی جا سکے اور فلسطینی حق خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب ایک معتبر راستہ ہموار ہو۔ انہوں نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کی کوششوں کے آغاز اور توسیع کی ضرورت پر زور دیا جن میں شدید سردیوں کے حالات سے آبادی کے تحفظ کےلئے پائیدار اور باوقار رہائش کی فراہمی شامل ہے۔

وزراء نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل پر دبائو ڈالے کہ وہ خیموں، رہائشی مواد، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی و نکاسی آب کی سہولیات سمیت ضروری اشیاءکی ترسیل اور تقسیم پر عائد پابندیاں فوری طور پر اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ کی پٹی میں فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد فراہم کی جائے، بنیادی ڈھانچے اور ہسپتالوں کو بحال کیا جائے اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں سمتوں میں کھولا جائے۔