ترک معارف فائونڈیشن کا آزاد جموں و کشمیر میں اپنا پہلا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تعاون ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں ترک معارف فائونڈیشن نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنا پہلا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔مظفرآباد میں قائم ہونے والا پاک ترک معارف انٹرنیشنل کیمپس …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تعاون ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں ترک معارف فائونڈیشن نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنا پہلا تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔مظفرآباد میں قائم ہونے والا پاک ترک معارف انٹرنیشنل کیمپس پاکستان میں فائونڈیشن کا 26 واں کیمپس ہوگا جبکہ یہ کشمیر میں اس کی پہلی تعلیمی موجودگی ہوگی جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلیمی اور دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

ترک معارف فائونڈیشن اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت، آزاد جموں کشمیر حکومت نئے کیمپس کے لیے عمارت فراہم کرے گی جس کے بعد فائونڈیشن باضابطہ طور پر مظفرآباد میں اپنی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کرے گی۔ یہ منصوبہ عوامی دلچسپی کا حامل ہے کیونکہ مجوزہ کیمپس میں نرسری سے انٹرمیڈیٹ سطح کی تعلیم فراہم کی جائے گی جس کے لیے 45 جدید کلاس رومز قائم کرکے تقریباً 1,000 طلبہ کو تعلیم دی جا سکے گی۔

سکول میں قومی اور بین الاقوامی نصاب پر مبنی تعلیمی پروگرامز متعارف کرائے جائیں گے جو ابتدائی جماعتوں سے لے کر ہائر سیکنڈری سطح تک جدید اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کریں گے۔ کیمپس کے 2026–2027 تعلیمی سال میں فعال ہونے کی توقع ہے جس سے خطے میں معیاری تعلیم کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری خوشحال خان کی میزبانی میں منعقد ہوئی جس میں ترک معارف فائونڈیشن کے پاکستان کنٹری ڈائریکٹر ہارون کوچوک علاداغلی، اعلیٰ تعلیم کی سیکرٹری تہذیب النساء اور دونوں جانب کے سینئر حکام نے شرکت کی۔یہ منصوبہ ابتدائی طور پر فروری 2025ء میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کے دوران زیر غور آیا تھا اور بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے بھی اس پر قریبی توجہ دی گئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک اعلیٰ سطح پر تعلیمی تعاون کو اہمیت دے رہے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر میں اس توسیع کے بعد پاک ترک معارف انٹرنیشنل سکولز پاکستان کے 9 شہروں میں 26 کیمپسز کے ساتھ کام کر رہے ہوں گے جہاں اس وقت ملک بھر میں 13 ہزار سے زائد طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔تعلیم سے وابستہ حلقوں کے مطابق مظفرآباد میں قائم ہونے والا یہ کیمپس کشمیری نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع میں نمایاں بہتری لائے گا، عوامی سطح پر روابط کو فروغ دے گا اور ترکیہ و پاکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔