مہارتوں، پائیداری اور جدت پر مبنی تعلیمی ماڈلز ہی پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہیں، وجیہہ قمر

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے نیشنل سکلز یونیورسٹی (این ایس یو) اسلام آباد کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہارتوں، پائیداری اور جدت پر مبنی تعلیمی ماڈلز ہی پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہیں اور ایسے اداروں کو ملک بھر میں فروغ دیا جانا چاہیے۔ وہ نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ ملازمین کی …

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے نیشنل سکلز یونیورسٹی (این ایس یو) اسلام آباد کی کارکردگی کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہارتوں، پائیداری اور جدت پر مبنی تعلیمی ماڈلز ہی پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہیں اور ایسے اداروں کو ملک بھر میں فروغ دیا جانا چاہیے۔ وہ نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقدہ ملازمین کی خدمات کے اعتراف کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں جہاں انہوں نے یونیورسٹی کی ایک سالہ نمایاں پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ این ایس یو جیسے ادارے خاموشی سے مگر موثر انداز میں قومی افرادی قوت کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تقریب میں فیکلٹی، انتظامی افسران، تکنیکی عملے اور یونیورسٹی قیادت نے شرکت کی جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل کی گئی تعلیمی، ادارہ جاتی اور بین الاقوامی کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا۔ نیشنل سکلز یونیورسٹی کو پاکستان کی دوسری بہترین پائیدار وفاقی یونیورسٹی قرار دیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ ادارہ ماحولیاتی ذمہ داری کو مہارتوں پر مبنی تعلیم کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یونیورسٹی پاکستان کا واحد یونیسکو-یو این ای وی او سی (UNESCO-UNEVOC) سے منسلک ادارہ ہے جبکہ یورپی سینٹر آف ووکیشنل ایکسیلینس کا درجہ ملنا بھی عالمی اعتماد کی واضح مثال ہے۔

یہ اعزازات این ایس یو کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد عالمی معیار کی پیشہ ورانہ تعلیم کو مقامی اور قومی ضروریات سے جوڑنا ہے۔ سرمد تنویر کیمپس مریدکے کی توسیع اور تعمیر کے ذریعے مہارتوں پر مبنی تعلیم کو پسماندہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے جبکہ نیوٹیک سے کوالیفکیشن ایوارڈنگ باڈی کا درجہ حاصل ہونے سے یونیورسٹی کو صنعت سے ہم آہنگ قومی سطح کی اسناد جاری کرنے کی صلاحیت بھی حاصل ہو چکی ہے۔ طلبہ کے نتائج کو ترجیح دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 2025ء کی پہلی گریجویٹنگ کلاس کے 133 طلبہ عملی میدان میں قدم رکھ چکے ہیں جبکہ متعدد طلبہ نے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے نمایاں سکالرشپس حاصل کیں۔

مرکزی اور ذیلی کیمپسز (مریدکے، شیخوپورہ) میں مجموعی طور پر دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو مختلف مہارتی شعبوں میں تربیت دی گئی۔ این ایس یو کی نیوٹیک-تکامل (NAVTTC–TAKAMOL) سکلز ویریفیکیشن پروگرام میں شمولیت کے تحت 1200 سے زائد ہنر مند افراد کی جانچ کی گئی جنہوں نے بعد ازاں سعودی عرب میں روزگار کے مواقع حاصل کیے، یوں تکنیکی تعلیم نے معاشی ترقی اور ترسیلاتِ زر میں بھی کردار ادا کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل سکلز یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر نے ان کامیابیوں کو یونیورسٹی کے عملے کی اجتماعی محنت اور عزم کا نتیجہ قرار دیا۔ آخر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ملازمین میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ پاکستان کی پہلی وفاقی مہارتوں پر مبنی یونیورسٹی کے طور پر نیشنل سکلز یونیورسٹی اسلام آباد آج معیاری پیشہ ورانہ تعلیم اور افرادی قوت کی تیاری کا ایک نمایاں مرکز بن چکی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درست پالیسی اور عملی وژن سے دیرپا تبدیلی ممکن ہے۔