اسلام آباد ۔ 09 ستمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کی طرف سے ملک کی اقتصادی حالت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کے تین شعبوں کی سیاہ تصویر کشی کرکے عوام میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی منفی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے، حالانکہ …
وزارت خزانہ نے ملک کی اقتصادی حالت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 09 ستمبر (اے پی پی) وزارت خزانہ کی طرف سے ملک کی اقتصادی حالت کے حوالے سے پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کے تین شعبوں کی سیاہ تصویر کشی کرکے عوام میں سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے جس سے ان کی منفی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے، حالانکہ موجودہ حکومت نے معیشت کے حوالہ سے جو سنگ میل عبور کئے ہیں انہیں بھی پی ٹی آئی کی طرف سے نظر انداز کیا گیا ہے، پاکستان کی معیشت کے حوالہ سے موجودہ حکومت کی گذشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور عالمی اداروں نے ہماری معیشت کی بہتری اور مثبت اقتصادی اشاریوں کو عملی طور پر سراہا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو ذہن میں لانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا جی ڈی پی 2008 میں 0.36 فیصد تک پہنچ گیا تھا جس کے بعد 2008ءسے 2013ءتک ملک کی شرح نمو 2.8 فیصد تک رہی۔ 2008 اور 2009ءمیں افراط زد دوہرے ہندسوں میں تھا اور اگست 2008ءمیں افراط زر کی شرح 25.3 فیصد تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی۔ مجموعی طور پر 2008ءسے 2013ءتک افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد رہی۔ پالیسی کی شرح 2008-09ءمیں 14 فیصد بلند ترین ریکارڈ کی گئی۔ 2008-09ءمیں زرعی قرضے 233.1 ارب روپے جاری ہوئے۔ 2008-13ءتک پانچ سالوں میں مجموعی طور پر 264.3 ارب روپے جاری کئے گئے۔ اس دوران زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کی کم ترین سطح پر رہے اور ملک دیوالیہ ہونے کی پیشنگوئیاں کی جا رہی تھیں۔ ملک کو فنڈنگ دینے والے عالمی اداروں نے اپنے دروازے پاکستان پر بند کر لئے تھے۔ ایس اینڈ پی اور موڈیز جیسے اداروں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ انتہائی کم کر دی۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان کی معیشت میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ موجودہ حکومت کی طرف سے اقتصادی بحالی کے ایجنڈے پر کامیابی سے عملدرآمد ہے اور اس کا مقصد ملک کی اقتصادی شرح نمو اور میکرو اکنامک سٹیبلٹی ہے۔








