اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لئے جامع بزنس پلان ترتیب دینے، تنخواہوں کی بروقت اور مسلسل ادائیگی کو یقینی بنانے اور ادارے کو درپیش مالی مسائل کے اسباب کے تعین کے لئے رکن کمیٹی ندیم عباس کی کنوینر شپ میں چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس، پی ٹی وی کیلئے جامع بزنس پلان ترتیب دینے، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لئے جامع بزنس پلان ترتیب دینے، تنخواہوں کی بروقت اور مسلسل ادائیگی کو یقینی بنانے اور ادارے کو درپیش مالی مسائل کے اسباب کے تعین کے لئے رکن کمیٹی ندیم عباس کی کنوینر شپ میں چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی پولین بلوچ کی زیر صدارت جمعہ کو یہاں پاکستان ٹیلی ویژن ہیڈ کوارٹرز میں منعقد ہوا۔
قائمہ کمیٹی نے بجلی کے بلوں کے ذریعے پی ٹی وی لائسنس فیس کی وصولی کے خاتمے کے بعد مالی اخراجات پورے کرنے کے لئے بزنس پلان اور متبادل آمدنی کے ذرائع پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کی رائے تھی کہ پی ٹی وی محض سرکاری گرانٹس پر انحصار کرتے ہوئے اپنے آپریشنل اخراجات اور ملازمین سے متعلق مالی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتا۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے رکن کمیٹی ندیم عباس کی کنوینر شپ میں چار رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو پی ٹی وی کے لئے جامع کاروباری پلان تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں کی باقاعدگی کے ساتھ ادائیگی کے امور پر غور اور ادارے کو درپیش مالی مشکلات کے اسباب کا جائزہ لے گی۔
ذیلی کمیٹی کو پی ٹی وی سپورٹس کی مجموعی کارکردگی، اس کے محصولات کے پورٹ فولیو اور پی ٹی وی سپورٹس کے سربراہ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا مینڈیٹ بھی دیا گیا ہے۔ شالیمار ریکارڈنگ اینڈ براڈ کاسٹنگ کمپنی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ لیکویڈیٹر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اگر حکومت عدالتی سماعت کے دوران دی گئی یقین دہانی کے مطابق دو ماہ کے اندر ایس آر بی سی کی بحالی کا منصوبہ پیش کرنے میں ناکام رہی تو کمپنی کو مکمل طور پر بند کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کمپنی کی مالی صورتحال کے باعث صرف پچاس ملازمین کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت نے ادارے کی واجب الادا ذمہ داریوں کا جائزہ لینے اور اس کی بحالی کے لئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو ایک تجویز ارسال کر رکھی ہے جو تاحال غور و خوض اور فیصلے کے مرحلے میں ہے۔ کمیٹی نے وزارت اطلاعات کو ہدایت کی کہ معاملے کی موثر پیروی کی جائے تاکہ کمپنی کا کوئی بھی ملازم بے روزگار نہ ہو۔ کمیٹی نے کراچی میں تعطل کا شکار پی ایس ڈی پی منصوبے سے متعلق ڈائریکٹر جنرل پی بی سی کی جانب سے پیش کی گئی عمل درآمد رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے منصوبے کی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ڈائریکٹر جنرل پی بی سی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارش پر تکنیکی ماہرین، پی بی سی کے انجینئرز اور وزارت کے حکام پر مشتمل ایک ٹیکنیکل کمیٹی قائم کی گئی تھی تاکہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کنٹینرز میں پڑے آلات کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ متعلقہ ٹیکنالوجی تاحال قابل استعمال ہے اور آلات اچھی حالت میں ہیں جنہیں نصب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس ضمن میں پیشرفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹس کمیٹی کو پیش کی جاتی رہیں گی۔ اجلاس میں ارکان قومی سمبلی ندیم عباس، کرن عمران ڈار، آسیہ ناز تنولی، رومینہ خورشید عالم، کرن حیدر، شاہین، سحر کامران، سید امین الحق، رانا انصر، مولانا عبدالغفور حیدری، ڈائریکٹر جنرل وزارت اطلاعات اور وزارت کے دیگر افسران نے شرکت کی۔








