تاجکستان کی ابن سینا یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ کا دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کے آغازکا مطالبہ

دو شنبے ۔3جنوری (اے پی پی):بیرونِ ملک طبی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں ابن سینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی (اے ٹی ایس ایم یو) میں زیرِ تعلیم تقریباً 450 پاکستانی طلبہ نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان براہِ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوشنبے میں یونیورسٹی کیمپس میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ نے کہا کہ براہِ راست فضائی رابطہ نہ …

دو شنبے ۔3جنوری (اے پی پی):بیرونِ ملک طبی تعلیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کے تناظر میں ابن سینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی (اے ٹی ایس ایم یو) میں زیرِ تعلیم تقریباً 450 پاکستانی طلبہ نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان براہِ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوشنبے میں یونیورسٹی کیمپس میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے طلبہ نے کہا کہ براہِ راست فضائی رابطہ نہ صرف ان کے سفر کو آسان بنائے گا بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارت،سیاحت اور طبی سیاحت کے بے پناہ امکانات کو بھی فروغ دے گا۔طلبہ کے مطابق پاکستان اور تاجکستان جغرافیائی قربت اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے باعث باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی شعبوں کو طبی سیاحت اور طبی علوم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ براہِ راست فضائی رابطہ علاقائی روابط میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔تاجکستان کم لاگت، اعلیٰ معیار اور محفوظ تعلیمی ماحول کے باعث پاکستانی میڈیکل طلبہ کے لیے ایک پرکشش مرکز بن کر ابھرا ہے۔ اے ٹی ایس ایم یو کے دوسرے سال کے طالب علم سعید علی نے یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بین الاقوامی معیار کی تعلیم” فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجکستان ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں کے باشندے نہایت دوستانہ جذبات کے حامل ہیں۔ ہماری یونیورسٹی میں 450 پاکستانی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور پاکستانیوں سمیت دیگر اقوام کے لیے طب کے شعبے میں معیاری تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ یہاں نظم و ضبط اور صفائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، تاجک قوم صاف گو اور باوقارقوم ہے۔

اسی طرح اٹک سے تعلق رکھنے والے پانچویں سال کے طالب علم مستنصر عباس نے براہِ راست پروازوں کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ پروازیں دونوں ممالک کے درمیان طبی سیاحت کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ یہاں طبی تعلیم اعلیٰ معیار کی ہے اور ابن سینا یونیورسٹی پاکستانی اور بین الاقوامی طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کر رہی ہے۔طلبہ خود کو مستقبل میں پاکستان۔تاجکستان تعلقات کے معمار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے سال کے طالب علم محمد ابوبکر نے نوجوانوں کے باہمی رابطے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان اور تاجکستان کے نوجوانوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ میں وہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

چوتھے سال کے طالب علم محمد حمزہ جو گجرات سے تعلق رکھتے ہیں، نے سیاحت کے امکانات اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں طبی سیاحت، عام سیاحت اور تاریخی مقامات کی سیر کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستانی سیاح کم خرچ میں بہترین سیاحتی تجربات حاصل کر سکتے ہیں۔پاکستان کے شمالی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گلگت سے تعلق رکھنے والے محسن رضا اور شیراز حسین نے کہا کہ یہاں طبی تعلیم کا معیار عمدہ ہے، تاجکستان ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں کا موسم بھی خوشگوار ہے۔ یونیورسٹی خود تاجکستان کے طبی نظام کی ایک روشن مثال ہے۔ ملک کے نمایاں طبی اداروں میں شامل ابن سینا تاجک اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی جدید تعلیمی عمارات، کلینکس اور لیبارٹریز سے آراستہ ہے۔اس کے 62 شعبہ جات میں اعلیٰ سطح کی فیکلٹی خدمات انجام دے رہی ہے، جن میں سات اکادمی کے اراکین، 297 سے زائد ڈاکٹراور میڈیکل سائنسز کے امیدوار، پروفیسر، اعزازی ڈاکٹر اور بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرین شامل ہیں۔

یونیورسٹی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ریاستی معیارات کے مطابق پیشہ ورانہ پروگرامز تیار کرتی ہے جو فرد، معاشرے اور قوم کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔براہِ راست پروازیں نہ صرف 450 پاکستانی طلبہ کے لیے سہولت کا باعث بنیں گی بلکہ اس کے مثبت معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ آسان سفر سے تجارت کو فروغ ملے گا، پاکستانی سیاح تاجکستان کے خوبصورت مناظر اور تاریخی مقامات کی جانب راغب ہوں گے اور تاجکستان ایک اہم طبی سیاحتی مرکز کے طور پر ابھر سکے گا۔

وطن سے دور تعلیم حاصل کرنے والے یہ نوجوان محض سفری سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ ایک پائیدار دوستی اور مضبوط تعلقات کا وژن پیش کر رہے ہیں،امکانات سے بھرپور اس خطے میں، فضاؤں کو جوڑنا شاید پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مضبوط رشتے کی جانب پہلا قدم ثابت ہو۔