چینی ادارے سی او سی آئی ریسرچ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر یوان زینگ کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر ایشیئن میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کارپوریشن فورم کے موقع پر لیکچر

بیجنگ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) سی پیک جیسے فلیگ شپ منصوبے کے حامل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے پوری دنیا کے لوگوں کی اقتصادی ترقی و خوشحالی پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔یہ بات چینی ادارے سی او سی آئی ریسرچ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سی اے او یوان زینگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر 15 روزہ ایشیئن میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کارپوریشن فورم کے موقع …

بیجنگ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) سی پیک جیسے فلیگ شپ منصوبے کے حامل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے پوری دنیا کے لوگوں کی اقتصادی ترقی و خوشحالی پر وسیع اثرات مرتب ہوں گے۔یہ بات چینی ادارے سی او سی آئی ریسرچ لمیٹڈ کے چیئرمین ڈاکٹر سی اے او یوان زینگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر 15 روزہ ایشیئن میڈیا ورکشاپ اور میڈیا کارپوریشن فورم کے موقع پر اپنے لیکچر میں کہی‘ جس میں 25 ایشیائی ممالک کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ نمایاں شخصیات شریک ہیں۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو دی رائز آف اے گریٹ پاور کے موضوع پر اپنے لیکچر میں انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ علاقائی اور عالمی اقتصادی اتحاد ‘ علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر یوان زینگ جو اکنامک بینک آف چائنہ کے سابق سربراہ بھی ہیں نے کہا کہ سی پیک کے تحت زیر تکمیل قراقرم ہائی وے ‘ گڈانی اور تھل میں توانائی کے منصوبے ‘ گوادر بندر گاہ ‘ کچھی لاہور ہائی وے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی کامیابیوں کی تازہ ترین داستان ہیں۔سی پیک منصوبے سے ناصرف لوگوں کو اقتصادی ترقی و خوشحالی ملے گی بلکہ یہ خطے میں امن اور خوشحالی کو بھی فروغ دے گا۔بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ محض پرانے نظام کی نئے نظام سے تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس میں مستقل اور اضافی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چین نے اس منصوبے پر نہ صرف روس ‘ آسیان ‘ قزاخستان اور ترکی سے پالیسی کے حوالے تعاون حاصل کیا۔بلکہ اس کی منصوبہ بندی کے لئے اس نے لاﺅس ‘ کمبوڈیا‘ میانمار ‘ ہنگری اور دیگر ممالک کے ساتھ ملکر کام کیا۔ چین نے اس عرصہ میں 40 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے اور 30ممالک سے اداروں کی سطح پر تعاون حاصل کیا۔اس منصوبے کے تحت چین نے باہمی روابط کو یقینی بنانے کے لئے بھارت ‘ لاﺅس ‘ ایتھوپیا ‘ جبوتی ‘ ہنگری اور سربیا میں ریلوے لائنوں کی تعمیر میں مدد کی اور پاکستان میں گوادر بندر گاہ کی تعمیر میں عملی تعاون کیا ۔

Leave a Reply