تہران ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے گہرے برادرانہ تعلقات کو تقویت دینے اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی باہمی خواہش کا اعادہ کیا جبکہ اتفاق کیا کہ افغانستان میں تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور افغانستان میں پائیدار امن کے لئے سیاسی مذاکراتی تصفیہ ضروری ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے تہران کے ایک روزہ دورہ کے دوران پیر کو ایران کے …
وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف سے ملاقات
تہران ۔ 11 ستمبر (اے پی پی) پاکستان اور ایران نے گہرے برادرانہ تعلقات کو تقویت دینے اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی باہمی خواہش کا اعادہ کیا جبکہ اتفاق کیا کہ افغانستان میں تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور افغانستان میں پائیدار امن کے لئے سیاسی مذاکراتی تصفیہ ضروری ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے تہران کے ایک روزہ دورہ کے دوران پیر کو ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے یہاں ملاقات کی جس میں مشترکہ تاریخ، ثقافت اور عوامی سطح پر گہرے روابط پر مبنی برادرانہ تعلقات کو تقویت دینے پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے کی باہمی خواہش کا اعادہ کیا۔ تہران میں پاکستانی سفارت خانہ سے جاری بیان کے مطابق تہران میں ایک روزہ دورہ پر آمد کے فوری بعد وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر جواد ظریف سے دوطرفہ تعلقات اور افغانستان میں امن و استحکام کے لئے کوششوں سمیت موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پرامن ہمسائیگی کی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت دینے اور خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے فروغ کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ تجارت، اقتصادی تعاون اور مواصلاتی روابط کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے تجارت، سرمایہ کاری، مواصلاتی رابطے اور بارڈر مینجمنٹ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے کے لئے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔









