لاہور۔9جنوری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران کینال روڈ پر نہر سے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخت کاٹنے میں پی ایچ اے کا جو افسر ملوث ہوا اس کو گرفتار کرایا جائے گا عدالت نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی دوران سماعت عدالت نے متعلقہ حکام …
سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت
لاہور۔9جنوری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران کینال روڈ پر نہر سے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخت کاٹنے میں پی ایچ اے کا جو افسر ملوث ہوا اس کو گرفتار کرایا جائے گا عدالت نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی دوران سماعت عدالت نے متعلقہ حکام سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے مرتکب واشنگ سٹیشنز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی ۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر محکمہ ماحولیات سے صنعتی یونٹس کی آلودگی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک کیس میں ہارون فاروق ، اظہر صدیق سمیت دیگر کی ایک ہی نوعیت کی دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت متعلقہ محکموں کے اعلی حکام پیش ہوئے اور اپنی اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کیں۔ درخواست گذار وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹرز ہسپتال کے سامنے نہر سے درختوں کی کٹائی کی گئی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ متعدد بار درختوں کی کٹائی سے روکنے کا حکم دیا ہے درختوں کی کٹائی پر ایس ایچ او کو بلا کر پرچہ درج کراکے، معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں گی.
فاضل جج نے حکم دیا کہ سوموار کو اس معاملے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ متعدد بار کہا کہ پارکس کو ریسٹورنٹس کیلئے استعمال نہ کریں پی ایچ اے کو پارکس کے حوالے سے پالیسی بنانے کا کہا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ ناصر باغ کے بارے میں کیا رپورٹ ہے وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ ناصر باغ میں پارکنگ پلازہ کی آئینی حیثیت چیلنج کردی گئی ہے عدالت نے ماہرین کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی، ناصر باغ کا معاملہ عدالت کی نگرانی میں مکمل ہوگا
محکمہ ماحولیات کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر141 صنعتی یونٹس کو بند کیا گیا، اب آلودگی یا دھواں چھوڑنے کی کوئی شکایت نہیں عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی ماحولیات اچھا کام کر رہے ہیں بڑی مشکل سے صنعتی یونٹس میں ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوائے گئے ان یونٹس کی فزیکل انسپکشن لازمی ہونا چاہیے عدالت نے مختلف محکموں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔









