مظفرگڑھ۔ 09 جنوری (اے پی پی):جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار میں 14 سے 42 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہیں، محکمہ زراعت کے زیر انتظام لیہ کے چک نمبر 125 ٹی ڈی اے میں فارمرز ٹریننگ پروگرام منعقد کیا گیا،جس میں کسانوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ سینیئر زراعت آفیسر شائستہ قصور نےکسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں …
مظفرگڑھ ،جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار میں 14 سے 42 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہیں،زراعت آفیسر
مظفرگڑھ۔ 09 جنوری (اے پی پی):جڑی بوٹیاں گندم کی پیداوار میں 14 سے 42 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہیں، محکمہ زراعت کے زیر انتظام لیہ کے چک نمبر 125 ٹی ڈی اے میں فارمرز ٹریننگ پروگرام منعقد کیا گیا،جس میں کسانوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ سینیئر زراعت آفیسر شائستہ قصور نےکسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار کے لیے جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی انتہائی ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیاں خوراک، پانی اور ہوا میں حصہ لے کر گندم کی پیداوار متاثر کرتی ہیں،گندم میں چوڑے اور نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں پیداوار میں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں
ان میں کرنڈ، باتھو، لیہہ، جنگلی پالک اور شاہترہ اہم چوڑے پتوں والی جڑی بوٹیاں جنگلی جئی، دمبی سٹی اور چاولی نوکیلے پتوں والی جڑی بوٹیاں شامل ہیں۔سینیئر زراعت آفیسر نے کسانوں کو بتایا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کا بہترین وقت 2 سے 3 پتے نکلنے کا مرحلہ ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر دوہری بار ہیرو چلایا جائے،اور جڑی بوٹیوں کے کیمیائی کنٹرول کےلئے محکمہ زراعت سے مشورہ کرنا ضروری ہے،سینیئر زراعت آفیسر شائستہ قصور نے کاشتکاروں کو مفید مشورے دیئے اور جڑی بوٹیوں کی تلفی کےلئے سپرے کا عملی مظاہرہ بھی کرایا۔









