سپریم کورٹ کے عملہ کے درجنوں ارکان کی ترقی

اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے عملے کے کیریئر کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا آغاز کیا ہے جو ایک متوازن اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی عکاسی ہے ۔ سپریم کورٹ ادارہ جاتی سالمیت اور سرکاری طرز عمل کے غیر سمجھوتہ شدہ معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے۔ …

اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے عملے کے کیریئر کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا آغاز کیا ہے جو ایک متوازن اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی عکاسی ہے ۔ سپریم کورٹ ادارہ جاتی سالمیت اور سرکاری طرز عمل کے غیر سمجھوتہ شدہ معیارات کو برقرار رکھتے ہوئے ملازمین کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق کافی عرصے کے بعد اپ گریڈیشن کے زیر التوا معاملات کو دیرینہ تفاوت کو دور کرنے کے لیے اٹھایا گیا جس سے سٹاف کی اکثریت کو وفاقی حکومت میں متعلقہ کیڈرز کے برابر لایا گیا ہے اور انصاف، حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔

وقف خدمات اور پیشہ ورانہ عزم کے اعتراف میں متعدد کیڈرز کے 218 افسران اور اہلکاروں کو اگلے پے سکیل میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔جن میں لوئر ڈویژن کلرک، اپر ڈویژن کلرک، اسسٹنٹ ، پیپر بک کے ایڈیٹرز، ڈیٹا انٹری آپریٹرز، ٹیلی فون آپریٹرز، کورٹ ایسوسی ایٹس اور اسسٹنٹ رجسٹرار شامل تھے۔

مزید برآں ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کی سفارشات پر 57 سٹاف ممبران کو ترقی دی گئی جو مقررہ اصولوں، طریقہ کار اور میرٹ کی بنیاد پر سختی سے کاربند ہیں۔سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس کی افرادی قوت کی فلاح و بہبود، حوصلہ افزائی اور پیشہ ورانہ ترقی ایک ترجیح بنی ہے لیکن ادارہ جاتی نظم و ضبط، دیانتداری یا سرکاری طرز عمل میں کسی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔