وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، جڑواں شہروں میں پانی کی فراہمی کے لئے دوتارا ڈیم کو دو سال کے اندر مکمل کرنے کی منظوری ، پانی ذخیرہ کرنے، تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد تجاویز کا جائزہ لیا گیا

اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں جڑواں شہروں کو پانی کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے مختصر اور طویل مدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتہ کو منعقدہ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر …

اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں جڑواں شہروں کو پانی کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے مختصر اور طویل مدتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہفتہ کو منعقدہ اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیراعظم کے مشیر سید توقیر شاہ، وزارت داخلہ، سی ڈی اے، واپڈا اور راولپنڈی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں پانی ذخیرہ کرنے اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر اسلام آباد اور راولپنڈی کی پانی کی طویل مدتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر نئے ڈیم تعمیر کرے گی۔ اجلاس کے دوران حکام نے چھوٹے ڈیموں اور پانی کے ذخائر بشمول چراہ، دوتارہ اور شاہدرہ ڈیم پراجیکٹس کے بارے میں منصوبہ بندی اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ واپڈا اور سی ڈی اے حکام نے فزیبلٹی رپورٹس، ٹائم لائنز اور مختلف آپشنز پیش کیے جن کا مقصد دارالحکومت کے شہری اور دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی میں اضافہ ہے۔

اجلاس میں دوتارا ڈیم جو کہ 110 ایم جی ڈی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا کو دو سال کے اندر مکمل کرنے کی منظوری دی گئی۔وفاقی وزیر محسن نقوی نے پانی کی فراہمی کے موجودہ نظام میں خامیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور پانی کی تقسیم کے نیٹ ورک کو اوور ہال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ نظام کی خامیوں کی فوری نشاندہی کریں اور پانی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے موثر طریقہ کار کو نافذ کریں۔

اسلام آباد کے رہائشیوں کو پانی کی فراہمی کو اپنی "اولین ترجیح” قرار دیتے ہوئے محسن نقوی نے حکام کو پانی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک قلیل مدتی منصوبے کے تحت فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پانی چوری اور کنکشن کے غلط استعمال کے خلاف بھی سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔

وزیر داخلہ نے پانی کی دستیابی اور فراہمی پر پیشرفت کو تیز کرنے کے لیے 10 دن کے ایک جامع روڈ میپ کا مطالبہ کیا جس میں پانی کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے قابل عمل اقدامات کا خاکہ پیش کیا جائے۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، سی ڈی اے کے چیئرمین، راولپنڈی کے کمشنر اور سی ڈی اے بورڈ کے ممبران سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔