لاہور۔11جنوری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی غیر استعمال شدہ زمین بے زمین دیہی خواتین کسانوں کو فراہم کریں اور پانی کی دستیابی و زرعی مداخل پر سبسڈی دی جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ وہ اتوار کو یہاں ایف اے او انٹرنیشنل ایئر آف …
زرعی پیداوار میں خواتین کا کردار تسلیم و دیہی خواتین کو سرکاری زمین الاٹ کی جائے، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔11جنوری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینئر شاہد عمران نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی غیر استعمال شدہ زمین بے زمین دیہی خواتین کسانوں کو فراہم کریں اور پانی کی دستیابی و زرعی مداخل پر سبسڈی دی جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ وہ اتوار کو یہاں ایف اے او انٹرنیشنل ایئر آف ویمن فارمر 2026 کے حوالے سے منعقدہ خواتین کسانوں کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں خواتین کا حصہ ملکی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
شاہد عمران نے کہا کہ پاکستان میں محنت کش خواتین اور لڑکیوں میں سے تقریبا 74 فیصد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ زراعت گھریلو آمدن کا لگ بھگ 40 فیصد فراہم کرتی ہے، اس کے باوجود خواتین کسانوں کو درپیش تحفظ، اجرت اور حقوق سے متعلق مسائل نہ تو مناسب طور پر دستاویزی شکل اختیار کر سکے ہیں اور نہ ہی ان کا موثر حل نکالا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر لیبر اور زرعی پالیسیوں میں فوری ترامیم کی جائیں تاکہ فصلوں، پھلوں، سبزیوں، مویشیوں، ماہی گیری، پولٹری، ڈیری،جنگلات اور بعد از برداشت سرگرمیوں سے وابستہ تمام خواتین کو باضابطہ طور پر کسان تسلیم کیا جائے۔ اس میں وہ خواتین بھی شامل ہوں جو جز وقتی یا کل وقتی کام کرتی ہیں یا خاندانی کھیتوں پر بغیر زمین کی ملکیت کے محنت کرتی ہیں۔ شاہد عمران نے مطالبہ کیا کہ خواتین کسانوں کے لیے کم از کم اجرت مقرر کی جائے اور مساوی کام کے بدلے مرد و خواتین زرعی مزدوروں میں اجرت کا فرق ختم کیا جائے۔








