محکمہ زراعت پنجاب کی آم کے باغات کو کورے سے محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیرجاری

لاہور۔11جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے آم کے باغات کو کورے سے محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیرجاری کردیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ آم پھلوں میں انفرادی حیثیت کا حامل اور اسے ایشیائی پھلوں کا بادشاہ کہلانے کا اعزاز حاصل ہے۔آم دنیا کے تقریبا 90 ممالک میں پیدا ہوتا ہے جن میں سے 72 ممالک کی پیداوار صرف 13 فیصد جبکہ باقی 18 ممالک دنیا کی کل پیداوار کا 87 …

لاہور۔11جنوری (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے آم کے باغات کو کورے سے محفوظ رکھنے کیلئے احتیاطی تدابیرجاری کردیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ آم پھلوں میں انفرادی حیثیت کا حامل اور اسے ایشیائی پھلوں کا بادشاہ کہلانے کا اعزاز حاصل ہے۔آم دنیا کے تقریبا 90 ممالک میں پیدا ہوتا ہے جن میں سے 72 ممالک کی پیداوار صرف 13 فیصد جبکہ باقی 18 ممالک دنیا کی کل پیداوار کا 87 فیصد ہم پیدا کرتے ہیں۔ دنیا کے آم پیدا کرنے والے 90 ممالک میں پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا پانچواں نمبر اور آم پاکستان میں 170 ہزار ہیکٹر رقبے پر کاشت کیا جاتا ہے جس سے سالانہ قریبا 1784 ہزارٹن پھل پیدا ہوتا ہے۔

ترجمان کے مطابق ہماری آم کی اوسط پیداوار 10.09 ٹن فی ہیکٹر اور اوسط پیداوار کو بڑھانے کیلئے پیداوار میں کمی کے اسباب کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے تاکہ بہتر پیداوار کے حصول کے لئے مناسب اور بروقت انتظامات کئے جا سکیں۔ترجمان نے کہاکہ آم کی پیداوار میں کورا کمی کا سبب بنتا ہے، آم کے مرکزی پیداواری علاقوں میں کورا عام طور پر دسمبر کے شروع سے وسط فروری تک پڑتا ہے تاہم کورا پڑنے کا زیادہ امکان وسط دسمبر سے آخر جنوری تک ہوتا ہے جب سردیوں میں رات کے درجہ حرارت میں بتدریج کمی کے ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بڑھتا ہے۔

ترجمان کے مطابق آم کے پیداواری علاقوں میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر یہ تناسب 100 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، اس طرح درجہ حرارت مزید کم ہونے پر ہوا میں موجود یہ نمی زمین اور پودوں کے پتوں پر جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے ،اس نمی کو شبنم کہتے ہیں۔ درجہ حرارت میں مزید کمی پر شبنم اپنی جگہ پر جمنا شروع ہو جاتی ہے اور برف کی اس بار یک تہہ کو کورا کہتے ہیں۔کورااس وقت پڑتا ہے جب رات کے وقت فضا کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہو جائے ، جب دن کے وقت سورج کی حرارت زمین تک پہنچتی اور اسے گرماتی ہے، جب رات ہوتی ہے تو زمین یہ حرارت خارج کرتی ہے اور ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتی ہے، سورج غروب ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اس کا درجہ حرارت کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور درجہ حرارت جب 4 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم ہوتا ہے تو کورا پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔

سردیوں میں جب دن کے وقت ٹھنڈی ہوا شمال کی سمت سے چلے، ہوا شام کے وقت ساکت ہوتی ہے، رات کو مطلع صاف ،ہوا اور بادل بالکل نہ ہوں، ساگر پودوں کو کورا سے محفوظ رکھنے کیلئے مناسب حکمت عملی نہ اپنائی جائے تو آم کے چھوٹے پودوں اور نرسری کو زیادہ نقصان پہنچے کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح پودوں کو کورے کے اثر سے بچانے کے لیے حفاظتی تدابیر نہایت ضروری ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ آم کی فصل کو کورے کے نقصانات سے بچانے کیلئے باغبان پانی کا چھڑکائو کریں جو زمین کی نمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے تاہم اگر زمین میں وتر موجود ہو تو آبپاشی کی ضرورت نہیں ہے۔

اسی طرح آم کے چھوٹے پودوں کو شیشم کے چھاپوں یا پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپ کر بھی کورے کے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آم کے درختوں کے نیچے دھواں کرنے سے کورے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔باغات میں درختوں کی چھتری کے نیچے 80 سے 100 کلو گرام نامیاتی مواد، مثلا گلا سڑاگوبر بکھیریں،آم کے درختوں پر قبل از وقت یعنی موسم سرما میں نکلنے والے بور کو روکنے کیلئے آبپاشی کا روکنا ضروری ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ اگر پھل توڑنے کے فورا بعد فاسفورس اور پوٹاش کی کھاد کا استعمال نہیں کیا گیا تو ماہ دسمبرمیں گلی سڑی گوبر کے ساتھ ملا کر استعمال کر لیں۔

پودوں کو ٹھنڈی ہوائوں سے بچانے کے لیے چاروں اطراف حفاظتی شیلڈ لگانا ضروری ہے تاکہ درختوں کی جڑیں محفوظ رہیں۔ کورے کے نقصان سے بچنے کیلئے درختوں کے تنوں پر بورڈیکس پیسٹ،چونا، نیلا تھوتھا، پانی 1:1:10 یا محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب جراثیم کش زہر کا پیسٹ1:20 کے تناسب سے لگائیں۔ اسی طرح باغبان آم کے تیلے کے تدارک کیلئے درختوں کے موٹے ٹہنوں پر مناسب کیڑے مارزہر کا سپرے کریں تاکہ درختوں کی چھال میں چھپے آم کے تیلے کا خاتمہ ہو سکے۔ علاوہ ازیں آم کی گدھیڑی کو پودوں پر چڑھنے سے روکنے کیلئے تنوں پر پھسلن والے پھندے(پلاسٹک شیٹ) لگانے کا عمل جلد از جلد مکمل کر لیں تاکہ آم کی پیداوار میں کمی واقع نہ ہو۔