پاکستان میں جنگلی زیتون سے خوردنی تیل کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے، محکمہ زراعت سمبڑیال

سیالکوٹ ۔ 12 جنوری (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ ملک میں جنگلی زیتون سے خوردنی تیل کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیتون کی اقسام کو ترقی دیکر زیتون کے تیل کی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جس سے ملکی ضروریات کیلئے درآمد کئے جانے والے خوردنی تیل پر خرچ ہونے والاکثیر زرمبادلہ بچایا …

سیالکوٹ ۔ 12 جنوری (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ ملک میں جنگلی زیتون سے خوردنی تیل کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ زیتون کی اقسام کو ترقی دیکر زیتون کے تیل کی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جس سے ملکی ضروریات کیلئے درآمد کئے جانے والے خوردنی تیل پر خرچ ہونے والاکثیر زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ زیتون کے پودے صحرا سے لیکر برف پوش پہاڑی چوٹیوں تک اگائے جا سکتے ہیں اور زیتون کے پودے عام طور پر4سے 5سال کی عمر میں پھل دینا شروع کردیتے ہیں، پھول آنے کے بعد 4 سے 5 ماہ تک پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے، زیتون کیلئے موسم گرما میں زیادہ درجہ حرارت اور سردیوں میں کہیں زیادہ ٹھنڈک درکار ہوتی ہے ، وہ علاقے جہاں اوسط درجہ حرارت 20سے25سینٹی گریڈ ہو وہاں زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ زیتون کی 20سال تک تجارتی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔