خزاں میں کاشت کی جانے والی آلو کی فصل کی برداشت 15 جنوری تا 15 فروری کی جاتی ہے،زراعت آفیسرپسرور

سیالكوٹ۔ 12 جنوری (اے پی پی):زراعت آفیسر محکمہ زراعت پسرور ذیشان گورائیہ نے کہا ہے کہ خزاں میں کاشت کی جانے والی آلو کی فصل کی برداشت 15 جنوری تا 15 فروری یعنی بوائی کے 100 تا 120 دن کے بعد کی جاتی ہے،آلو کی برداشت کا مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس کی معیاری پیداوار کے حصول پر کاشتکار کی ساری محنت کا دارومدار ہوتا ہے، اس مرحلہ …

سیالكوٹ۔ 12 جنوری (اے پی پی):زراعت آفیسر محکمہ زراعت پسرور ذیشان گورائیہ نے کہا ہے کہ خزاں میں کاشت کی جانے والی آلو کی فصل کی برداشت 15 جنوری تا 15 فروری یعنی بوائی کے 100 تا 120 دن کے بعد کی جاتی ہے،آلو کی برداشت کا مرحلہ بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ اس کی معیاری پیداوار کے حصول پر کاشتکار کی ساری محنت کا دارومدار ہوتا ہے، اس مرحلہ پر کسی قسم کی سستی یا کوتاہی سے پیداوار میں کمی کے علاوہ کوالٹی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پیر آلو کے کاشتکاروں کے نام اپنے پیغام میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار آلو کی برداشت اور سنبھال کے دوران فصل اس وقت برداشت کریں جب بیلیں پیلی ہونی شروع ہو جائیں اور زمین پر گرنے لگیں، آلو کی بیلیں برداشت سے 15 روز قبل کاٹ کر وٹوں کے اوپر ڈالنے سے آلو کی فصل تیلے کے اثرات سے محفوظ اور تیار آلو کی جلد بھی سخت ہو جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آلو کی برداشت سے 15 دن قبل فصل کو پانی لگانا بند کردیں تاکہ زمین میں زیادہ نمی برداشت کے دوران مشکلات پیدا نہ ہوسکیں اور برداشت کیے ہوئے آلو کے ساتھ زیادہ مٹی چپکنے کا باعث اس کی کوالٹی بھی خراب نہ ہوسکے،اسی طرح فصل کی برداشت صبح کے وقت کرنی چاہیے جب درجہ حرارت نسبتا کم ہو کیونکہ زیادہ درجہ حرارت پر آلو کے گلنے سڑنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔