بنگلہ دیشی کرکٹرز کا بی سی بی ڈائریکٹر کو الٹی میٹم، استعفیٰ نہ دینے پر تمام کھیل معطل کرنے کی دھمکی

ڈھاکہ۔15جنوری (اے پی پی):بنگلہ دیشی کرکٹرز نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)کے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں بصورتِ دیگر ملک بھر میں تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق کرکٹرز آرگنائزیشن آف بنگلہ دیش (سی او اے بی)کے صدر محمد متھن نے زوم کے ذریعے منعقدہ پریس کانفرنس …

ڈھاکہ۔15جنوری (اے پی پی):بنگلہ دیشی کرکٹرز نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)کے ڈائریکٹر ایم نجم الاسلام کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں بصورتِ دیگر ملک بھر میں تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق کرکٹرز آرگنائزیشن آف بنگلہ دیش (سی او اے بی)کے صدر محمد متھن نے زوم کے ذریعے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ فیصلہ ایم نجم الاسلام کے قومی کرکٹرز سے متعلق متنازعہ بیانات کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔محمد متھن کے مطابق ایم نجم الاسلام کو استعفیٰ دینا ہوگا، اگر ایسا نہیں ہوا تو تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کر دی جائیں گی۔

یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا جب بنگلہ دیش کی آئندہ آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے۔ ٹورنامنٹ کے مقام کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعےکے باعث بنگلہ دیشی حکومت اور بی سی بی مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر قومی ٹیم بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔ادھر ورلڈ کپ میں عدم شرکت کی صورت میں بی سی بی کو ممکنہ مالی نقصان پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ اس معاملے پر گزشتہ روز بات کرتے ہوئے بی سی بی فنانس کمیٹی کے چیئرمین ایم نجم الاسلام نے کہا کہ ٹیم کے نہ کھیلنے کی صورت میں بورڈ کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوگا، تاہم کھلاڑیوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی سی بی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن کرکٹرز کو ہوگا کیونکہ ورلڈ کپ میں ہر میچ کے عوض کھلاڑیوں کو میچ فیس ملتی ہے۔ماہرین کے مطابق کھلاڑیوں کو نہ صرف مالی نقصان کا سامنا ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر قیمتی تجربے سے بھی محروم ہونا پڑے گا خصوصاً ایسے کھلاڑیوں کے لیے جن کے لیے یہ واحد ورلڈ کپ ہو سکتا ہے۔جب ایم نجم الاسلام سے پوچھا گیا کہ آیا بی سی بی کھلاڑیوں کو ممکنہ مالی نقصان کا ازالہ کرے گا تو انہوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔ ان کے بیان پر کرکٹ حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے خاص طور پر اس لیے کہ بی سی بی آئی سی سی کی تقسیم اور سپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔یہ تنازعہ گزشتہ ہفتے اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب ایم نجم الاسلام نے فیس بک پر سابق کپتان تمیم اقبال کو ’’بھارتی ایجنٹ‘‘قرار دیا۔

تمیم اقبال نے ایک بیان میں بی سی بی کو ورلڈ کپ میں شرکت کے فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں پر غور کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر ایم نجم الاسلام نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔بعد ازاں ایم نجم الاسلام نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی رائے تھی، تاہم یہ وضاحت تنقید کو کم نہ کر سکی۔پانچ روز قبل کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش (سی ڈبلیو اے بی )نے بھی بی سی بی صدر کو خط لکھ کر ایم نجم الاسلام کے خلاف کارروائی اور عوامی معافی کا مطالبہ کیا ۔کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن آف بنگلہ دیش نے کہا کہ ہم حیران، صدمے اور غصے میں ہیں، بنگلہ دیش کی تاریخ کے کامیاب ترین اوپنر کے خلاف اس نوعیت کا بیان ناقابلِ مذمت ہے۔متعدد قومی کھلاڑیوں نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا۔

فاسٹ بولر تسکین احمد نے ایسے بیانات کو بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے نقصان دہ قرار دیا جبکہ سپنر تیج الاسلام نے اسے بدذوق اور ناقابلِ قبول کہا۔ سابق ٹیسٹ کپتان مومن الحق نے اس بیان کو پوری کرکٹ برادری کی توہین قرار دیا۔بی سی بی نے گزشتہ روز ایک بیان میں ایم نجم الاسلام کے ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ بیانات بورڈ کی سرکاری پالیسی یا اقدار کی عکاسی نہیں کرتے۔صورتحال کے پیشِ نظر بنگلہ دیشی کرکٹ اس وقت شدید انتظامی اور اخلاقی بحران سے دوچار نظر آتی ہے جبکہ آئندہ چند گھنٹے اس تنازعے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

 

مزید خبریں