اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے زمین کے تنازع اور خاتون پر مبینہ تشدد و ہراسانی کے سنگین مقدمے میں نامزد اشفاق حسین و دیگر کو قبل از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فوجداری درخواست …
سپریم کورٹ کا زمین کے تنازع اور خاتون پر مبینہ تشدد و ہراسانی کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو قبل از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے زمین کے تنازع اور خاتون پر مبینہ تشدد و ہراسانی کے سنگین مقدمے میں نامزد اشفاق حسین و دیگر کو قبل از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فوجداری درخواست نمبر 187-K/2025 کی سماعت کی جو سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کے 2 اکتوبر 2025 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزمان کے خلاف تھانہ سیٹھارجہ، ضلع خیرپور میں ایف آئی آر نمبر 33/2025 درج کی گئی، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 452، 354-A، 337-A(i)، 337-F(i)، 506/2، 504، 114، 147، 148 اور 149 شامل ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی محمد اچھر، جو ایک معذور شخص ہے، نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے اس کے گھر میں زبردستی داخل ہو کر اسے اور اس کی بیٹی کو تشدد کا نشانہ بنایا، بالوں سے گھسیٹا، کپڑے پھاڑے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ دراصل زمین کے ایک سول تنازع کا نتیجہ ہے اور ایف آئی آر بدنیتی پر مبنی ہے، جبکہ دفعہ 354-A کو بلاجواز شامل کیا گیا۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو تسلیم نہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایف آئی آر میں ملزمان کے کردار واضح اور مخصوص انداز میں بیان کیے گئے ہیں، واقعہ گھر کے اندر پیش آیا اور دستیاب شواہد بادی النظر میں ملزمان کی شمولیت ظاہر کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قبل از گرفتاری ضمانت ایک غیر معمولی رعایت ہے جو صرف غیر معمولی حالات میں دی جا سکتی ہے، جبکہ موجودہ مقدمے میں ایسا کوئی جواز سامنے نہیں آیا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 354-A ایک سنگین جرم ہے جو دفعہ 497 ضابطہ فوجداری کے تحت ممنوعہ زمرے میں آتا ہے۔
عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے اپیل کی اجازت بھی دینے سے انکار کر دیا، تاہم واضح کیا کہ فیصلے میں کیے گئے مشاہدات عبوری نوعیت کے ہیں اور ٹرائل کورٹ کو متاثر نہیں کریں گے۔یوں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کو قبل از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔







