اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم قانونی نکات پر تفصیلی دلائل دیے گئے، دو ہزار سے زائد درخواستوں پر مشتمل مقدمے کی سماعت منگل 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر پیر کو سماعت کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی …
وفاقی آئینی عدالت، سپر ٹیکس سے متعلق دو ہزار سے زائد درخواستوں پر مشتمل مقدمے کی سماعت منگل 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم قانونی نکات پر تفصیلی دلائل دیے گئے، دو ہزار سے زائد درخواستوں پر مشتمل مقدمے کی سماعت منگل 20 جنوری تک ملتوی کر دی گئی ۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر پیر کو سماعت کی۔بنچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے ۔سماعت کے دوران مختلف کمپنیوں اور شعبہ جات کے وکلاء نے اپنے دلائل پیش کیے۔
مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کے نفاذ، اس کے آغاز کی تاریخ اور مختلف سیکٹرز پر لاگو شرح کے حوالے سے شدید ابہام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2023 کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 سی کا اطلاق 2022 سے کیا گیا جبکہ 2022 تک بینکوں پر سپر ٹیکس کی شرح 4 فیصد تھی جسے فنانس بل 2023 کے بعد بڑھا کر 10 فیصد کر دیا گیا۔سماعت کے دوران انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا نے مؤقف اپنایا کہ فنانس بل 2022 سے قبل 18 ماہ کے لیے سپر ٹیکس ادا کیا گیا، حالانکہ ٹیکس ایئر ہمیشہ 12 ماہ کا ہوتا ہے۔
اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ جب ٹیکس ایئر 12 ماہ کا ہے تو 18 ماہ کا ٹیکس کیسے لیا جا سکتا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے وکیل عاصمہ حامد نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام ٹیکس 12 ماہ کی بنیاد پر ہی عائد کیے جاتے ہیں، اور اگر کسی نے اضافی ٹیکس دیا ہے تو اس کی واپسی کے لیے درخواست دینی چاہیے تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 150 وکلاء میں سے 100 سے زائد وکلاء اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔ مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت منگل 20 جنوری تک ملتوی کر دی۔آئندہ سماعت پر فوجی فرٹیلائزرز کے وکیل جمال احمد سکھیرا اپنے دلائل پیش کریں گے۔







