اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے ایڈوانسڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ اور مسافر دوست ادارہ بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں منصوبے کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی کی …
ایڈوانسڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ اور مسافر دوست ادارہ بنانے کی جانب انقلابی قدم ہے،وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے ایڈوانسڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک منصوبہ پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ اور مسافر دوست ادارہ بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلام آباد میں منصوبے کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹوریٹ آف آئی ٹی کی جانب سے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی وزیر کو یقین دہانی کرائی گئی کہ رین منصوبے کا فیز ون جون 2026ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔
اس فیز کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے پاکستان ریلوے کے اپنے ریونیو (آمدن) سے مکمل کیا جا رہا ہے جو ادارے کے مالی استحکام اور خود کفالت کی علامت ہے۔پاکستان ریلوے کی تاریخ کے اس جامع ڈیجیٹلائزیشن منصوبے کے تحت تمام ٹرینوں اور انجنوں کی ریئل ٹائم جی پی ایس ٹریکنگ، راولپنڈی ماڈل کی طرز پر تمام بڑے ریلوے سٹیشنز کو ’سیف اینڈ سمارٹ سٹیشنز‘ میں تبدیل کرنا، منتخب سٹیشنز پر مسافروں کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی،لاہور ہیڈ کوارٹر سمیت تمام ڈویژنز میں جدید کنٹرول سینٹرز کا قیام، ایم ایل ون کے 1700 کلومیٹر طویل نیٹ ورک پر آپٹک فائبر بچھانے کا کام شامل ہے۔
وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سسٹم کے نفاذ سے ٹرینوں کی آمد و رفت میں تاخیر کا خاتمہ ہوگا اور حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل ممکن ہوگا جس سے مسافروں کا تحفظ یقینی بنے گا۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ رین منصوبہ ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جس سے آپریشنل کارکردگی میں اضافہ اور انسانی غلطی کا امکان کم سے کم ہو جائے گا۔








