اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگرحصوں میں سڑکوں کی مرمت باقاعدہ بنیادوں اورمعیاری طریقہ کارکے مطابق ہوتی ہے، ٹول پلازوں سے ملنے والے وسائل سڑکوں کی مرمت پرلگائے جائیں گے، حکومت نے ایم نائن کی جگہ ایم ٹین روٹ بنائی ہے جس کوپبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائیگا۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سیدرفیع اللہ کے سوال …
بلوچستان سمیت ملک کے دیگرحصوں میں سڑکوں کی مرمت باقاعدہ بنیادوں اورمعیاری طریقہ کارکے مطابق ہوتی ہے، ایم ٹین منصوبہ کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائیگا، پارلیمانی سیکرٹری گل اصغرخان کاقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کوبتایاگیاہے کہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگرحصوں میں سڑکوں کی مرمت باقاعدہ بنیادوں اورمعیاری طریقہ کارکے مطابق ہوتی ہے، ٹول پلازوں سے ملنے والے وسائل سڑکوں کی مرمت پرلگائے جائیں گے، حکومت نے ایم نائن کی جگہ ایم ٹین روٹ بنائی ہے جس کوپبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کیا جائیگا۔
پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سیدرفیع اللہ کے سوال پرپارلیمانی سیکرٹری مواصلات گل اصغرخان نے ایوان کوبتایا کہ این فائیو اوراین 55کی حالت خراب ہے، ہم روڈ بناتے ہیں مگرچندسال بعد اس کی حالت مخدوش ہوتی ہے، اصل مسئلہ ایکسل روڈ کا ہے، موجودہ حکومت نے ایکسل لوڈپرعمل درآمدشروع کردیا ہے اوراس کے بہترنتائج سامنے آئیں گے،انہوں نے کہاکہ سڑکوں اورشاہراہوں کی تعمیر ومرمت بین الاقوامی معیارکے مطابق بنانے کیلئے کوششیں ہوتی ہے، پاکستان میں روڈ کی عمر10سال اورپل وسرنگوں کی عمر50سال رکھی جاتی ہے۔
اقبال آفریدی کے سوال پرانہوں نے کہاکہ پوری دنیامیں بارشوں اورسیلاب سے سڑکیں خراب ہوتی ہیں، سڑکوں کی سالانہ مرمت کیلئے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں، سڑکوں کی مرمت بھی باقاعدہ بنیادوں پرکی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگرحصوں میں سڑکوں کی مرمت طریقہ کارکے مطابق ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ این ایچ اے کے پاس وسائل ٹول پلازوں سے آتے ہیں، جووسائل ٹول پلازوں سے آتے ہیں وہ سڑکوں کی مرمت پرلگائے جائیں گے۔
سیدامین الحق کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ این نائن نارتھ سے سائوتھ کی طرف اہم لنک ہے، موجودہ حکومت نے ایم نائن کی جگہ ایم ٹین روٹ بنائی ہے جس کوپبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طورپرمکمل کیا جائیگا۔اعجازجکھرانی کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ سندھ میں شاہراہوں کی تعمیرومرمت کیلئے فنڈز بندنہیں کئے گئے، ممبرسندھ کے خلاف شکایات پرانتظامی کاروائی کی گئی تھی۔ڈپٹی سپیکرنے کہاکہ اس پر10ضمنی سوالات ہے اس لئے یہ معاملہ کمیٹی کے سپرد کیا جارہاہے۔








