ڈیجیٹل نیشن پاکستان محض ایک منصوبہ نہیں ،جامع وژن ہے، حکومت ملک کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے، خرم شہزاد

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان 2025‘‘ محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع وژن ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے، اس وژن کے ذریعے بہتر طرز حکمرانی، مضبوط ڈیجیٹل معیشت اور جامع ڈیجیٹل معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں ڈیجیٹل شناختیں، ڈیجیٹل …

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وزیر خزانہ کے مشیر برائے خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان 2025‘‘ محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع وژن ہے جس کے تحت حکومت پاکستان کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے، اس وژن کے ذریعے بہتر طرز حکمرانی، مضبوط ڈیجیٹل معیشت اور جامع ڈیجیٹل معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جس میں ڈیجیٹل شناختیں، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، شہریوں اور کاروبار کے لیے آسان آن لائن خدمات، ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ اور جدت (انوویشن) کے فروغ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

وہ پیر کے روز ایکسپو سینٹر میں منعقدہ 27ویں آئی ٹی سی این ایشیا (ITCN Asia) کے موقع پر فن ٹیک فارورڈ فورم سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ای آفس پلیٹ فارم کے تحت حکومت کی 99 فیصد فائلیں ایک وزارت سے دوسری وزارت کو ڈیجیٹل طور پر منتقل ہو رہی ہیں جس سے ڈیٹا کے ضائع ہونے اور فیصلوں میں تاخیر جیسے مسائل کا خاتمہ ہوا ہے۔ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے کارکردگی کا احتساب ممکن ہوا ہے جو شفافیت اور نظام کی ساکھ کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

خرم شہزاد نے کہا کہ حکومت کا واضح ہدف 120 ملین بینک اکائونٹس کاحصول اور تمام گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) لین دین کو 100 فیصد ڈیجیٹل بنانا ہے جبکہ رواں سال پورے حکومتی نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی وی اے آر اے (PVARA) کے ذریعے کرپٹو ہولڈرز کو باضابطہ ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ ٹیکس مراعات پر بھی کام جاری ہے اور مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خرم شہزاد نے کہا کہ صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی مراعات دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ ایس ایم ایز، زراعت اور نوجوانوں کو کاروبار کے آغاز کے لیے چھوٹے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہنر مند افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے سکل بانڈز بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ڈیجیٹل معیشت میں حکومت کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری جدت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے معاون پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے بالخصوص جدید مالیاتی اور ڈیجیٹل شعبوں میں، حکومت سرگرمی سے پالیسیاں وضع کر رہی ہے۔ریگولیٹری اور ادارہ جاتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد نے کہا کہ کرپٹو اثاثوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان کے ضابطے کے لیے خصوصی فریم ورک یا ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے تاہم پاکستان اس شعبے میں ابتدائی مراحل میں ہے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ایک منظم اور موثر نظام موجود ہے جبکہ پاکستان بھی عالمی بہترین طریقہ کار سے سیکھتے ہوئے محتاط مگر پراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ متوازن پالیسی سازی، جدت دوست ضوابط اور عالمی بہترین عملی مثالوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

 

مزید خبریں