اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے انتخابات (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا جو رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔ شازیہ مری نے الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم کے مقاصد سے کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس،انتخابات (ترمیمی) بل 2025 پر غور

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے انتخابات (ترمیمی) بل 2025 پر غور کیا جو رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے پیش کیا۔ شازیہ مری نے الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترمیم کے مقاصد سے کمیٹی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا مقصد شفافیت اور انفرادی حقوق کے تحفظ کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنا ہے۔ اگرچہ اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے کی اشاعت عوامی احتساب، شفافیت، گڈ گورننس اور عوامی نمائندوں پر عوامی اعتماد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کا خیال تھا کہ ضرورت سے زیادہ انکشافات سے ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کی ذاتی سلامتی اور رازداری بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد کمیٹی نے بھی بل کی محرک کے خیالات کی توثیق کی۔ شیخ آفتاب احمد نے مذکورہ بل میں ترامیم پیش کیں۔ وزارت قانون و انصاف کے نمائندے نے مجوزہ ترامیم پر کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد آئینی ریفرنسز کو وفاقی آئینی عدالت سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ترامیم متعلقہ دفعات میں اصطلاح ’’سپریم‘‘ کو ’’وفاقی آئینی‘‘ کے ساتھ بدلنے اور جہاں قابل اطلاق عدالتی فورمز میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کرنے کا بندوبست کرتی ہیں۔ خاص طور پر ایکٹ کی دفعہ 9، 66، 104، 104A، 155، 202، 212 اور 232 میں ترمیم کی گئی ہے۔ کمیٹی نے بل کی ترامیم کے ساتھ منظوری دے دی جس میں اختلاف رائے کا ایک ووٹ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے علاوہ ارکان قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، شیخ آفتاب احمد، چوہدری محمد سرور ، محمود بشیر ورک، حمید حسین، منیبہ اقبال، ڈاکٹر نکہت شکیل ، شازیہ مری (موور) اور وزارت پارلیمانی امور، وزارت قانون و انصاف اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔








