قاہرہ۔19جنوری (اے پی پی):مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی سرپرستی میں سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کی 36ویں بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز پیر کو نیو قاہرہ کے مقامی ہوٹل میں ہو گیا ۔ دو روزہ کانفرنس کا عنوان "اسلام میں پیشے، اخلاقیات، اثرات اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ان کا مستقبل"رکھا گیا ہے۔کانفرنس کی صدارت مصر کے وزیرِ اوقاف اور سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کے چیئرمین …
سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کی 36ویں بین الاقوامی کانفرنس کا قاہرہ میں آغاز،وفاقی وزیر سردار محمد یوسف کی شرکت

مزید خبریں
قاہرہ۔19جنوری (اے پی پی):مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی سرپرستی میں سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کی 36ویں بین الاقوامی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز پیر کو نیو قاہرہ کے مقامی ہوٹل میں ہو گیا ۔ دو روزہ کانفرنس کا عنوان "اسلام میں پیشے، اخلاقیات، اثرات اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ان کا مستقبل”رکھا گیا ہے۔کانفرنس کی صدارت مصر کے وزیرِ اوقاف اور سپریم کونسل فار اسلامک افیئرز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اسامہ الازہری کر رہے ہیں۔

افتتاحی سیشن کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور مصر کے قومی ترانے سے ہوا۔ ڈاکٹر اسامہ الازہری نے وزیراعظم کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کیا جبکہ امامِ اکبر جامعہ الازہر اور مصر کے مفتیِ اعظم کے نمائندوں سمیت بحرین، اردن، عمان، جبوتی اور فلسطین کے وزراءِ اوقاف اور مذہبی مشیروں نے بھی خصوصی خطابات کئے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کانفرنس کے پہلے روز ایک اہم سائنٹیفک سیشن کی صدارت کی۔

اس سیشن کا موضوع "عہدِ نبوی ﷺ میں پیشے: ان کی فہرست، آداب، اخلاقیات اور فقہ” تھا۔ اس سیشن میں مصر، روس اور بنگلہ دیش کے ممتاز سکالرز اور پروفیسرز نے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔کانفرنس کے اہم نکات میں مصنوعی ذہانت اور اسلام کانفرنس میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے درمیان اسلامی پیشہ ورانہ اخلاقیات کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

سائنسی نشستیں اور ورکشاپس، دو دنوں پر محیط اس ایونٹ میں کل 14 سائنسی نشستیں اور 4 خصوصی ورکشاپس منعقد کی جا رہی ہیں۔ کانفرنس کا اختتام 20 جنوری کو ہوگا جس میں ڈاکٹر اسامہ الازہری حتمی اعلامیہ اور مستقبل کے حوالے سے اہم سفارشات پیش کریں گے۔یہ کانفرنس عالمِ اسلام کے معزز وزراء اور مفکرین کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے جہاں پیشہ وارانہ زندگی کو اسلامی اصولوں اور جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں ڈھالنے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔









