اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):خارجہ،انسانی حقوق اور تعلیمی ماہرین نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی یاد ہی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا اصل سرچشمہ بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے پیر کو یہاں مسلم انسٹیٹیوٹ اور آذربائیجان کے سفارت خانے کے اشتراک سے ’’پاکستان-آذربائیجان برادرانہ یکجہتی: یوم سوگ اور بلیک جنوری کے شہداء کی یاد‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مباحثے سے خطاب کرتے …
شہداء کی قربانیوں کی یاد ہی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا اصل سرچشمہ بنتی ہے، خارجہ،انسانی حقوق اور تعلیمی ماہرین کا ’’پاکستان-آذربائیجان برادرانہ یکجہتی: یوم سوگ اور بلیک جنوری کے شہداء کی یاد‘‘ کے زیرعنوان مباحثے سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):خارجہ،انسانی حقوق اور تعلیمی ماہرین نے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی یاد ہی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کا اصل سرچشمہ بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے پیر کو یہاں مسلم انسٹیٹیوٹ اور آذربائیجان کے سفارت خانے کے اشتراک سے ’’پاکستان-آذربائیجان برادرانہ یکجہتی: یوم سوگ اور بلیک جنوری کے شہداء کی یاد‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں سفیر آذربائیجان برائے پاکستان خضر فرہادوف ، سابق سفارت کار ڈاکٹر ضمیر اعوان ، پروفیسر ڈاکٹر عالیہ سہیل خان ، ڈاکٹر ثمینہ امین، ڈاکٹر آمنہ محمود اور اے نور شامل تھے۔
سیمینار کا مقصدبلیک جنوری کے واقعات کے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا تھا ۔ مقررین نے اس سانحے کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ 19 اور 20 جنوری 1990ء کی درمیانی شب سابق سوویت یونین کی قیادت کے احکامات پر 26 ہزار فوجیوں کو باکو اور آذربائیجان کے دیگر شہروں میں تعینات کیا گیا جس کے نتیجے میں 147 بے گناہ شہری شہید اور 744 افراد شدید زخمی ہوئے۔
پرامن شہری آبادی کے خلاف طاقت کا یہ بے دریغ استعمال بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور دیگر بین الاقوامی معاہدات کی صریح خلاف ورزی تھا۔سیمینار میں اس تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے آذربائیجان کو تسلیم کیا ۔یہ یاد پرانے زخموں کو دوبارہ نہیں کھولتی بلکہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ظلم دوبارہ نہ ہو۔
مقررین نے کہا کہ آرمینیا کی جانب سے بے بنیاد علاقائی دعوے، نگورنو-کاراباخ میں علیحدگی پسند سرگرمیاں اور سوویت یونین کی جانب سے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی نے آذربائیجان میں قومی آزادی کی تحریک کو جنم دیا۔ مقررین کے مطابق اس سیاسی صورتحال میں عوامی مزاحمت ایک فطری ردعمل تھی جسے طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ثابت ہوئی۔
اس موقع پر یہ بھی یاد دلایا گیا کہ 1994ء میں آذربائیجان کی ملی مجلس نے 20 جنوری 1990ء کے واقعات کو فوجی جارحیت اور سنگین جرم قرار دیتے ہوئے باضابطہ فیصلہ منظور کیا۔ مقررین نے کہا کہ 44 روزہ محب وطن جنگ اور ستمبر 2023ء کے انسداد دہشت گردی اقدامات کے نتیجے میں آذربائیجان نے اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر بحال کر لی ہے جو ان قربانیوں کی عملی تکمیل اور تاریخی تسلسل کا ثبوت ہے۔
آخر میں سیمینار کے شرکا نے آذربائیجان کے عظیم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آذربائیجان اپنی آزادی، خودمختاری اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر پرعزم رہے گا اور بلیک جنوری ہمیشہ قومی شعور، مزاحمت اور وقار کی علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ سیمینارمیں سفارتکاروں ، محققین ،اساتذہ ، طلباء اور خواتین سمیت مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔








