مالی سال 2025 کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ کر 2.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے ، وفاقی وزیر ڈاکٹرطارق فضل چوہدری

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )بڑھ کر 2.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاس ہے۔ پیرکو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کے …

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )بڑھ کر 2.48 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کی عکاس ہے۔

پیرکو ایوان بالا کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 تک ایف ڈی آئی کا حجم 2.48 ارب ڈالر رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ 2.34 ارب ڈالر تھا، اس طرح 142 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عالمی کمپنیاں عموماً مارکیٹ کے حالات کے مطابق حکمتِ عملی فیصلے کرتی ہیں تاہم اس کے باوجود متعدد بین الاقوامی ادارے اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، ان میں مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور دیگر خطوں کی کمپنیاں شامل ہیں جبکہ آرامکو سے منسلک گروپس، نووا منرلز اور دیگر کثیر القومی سرمایہ کار بھی پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت صنعتوں اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے، کاروباری ماحول بہتر بنانے، آسان آپریشنل نظام یقینی بنانے اور صنعتی ترقی کے فروغ کے لئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔

وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں وسیع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ڈیجیٹائزیشن اور فیس لیس نظام کی جانب منتقلی شامل ہے جس کا مقصد انسانی مداخلت کم کرنا، شفافیت بڑھانا اور زائد ٹیکسوں کے مسائل کا حل نکالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات پر متعلقہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری، پاسپورٹ کی کریڈیبلٹی میں اضافہ اور حالیہ سفارتی و معاشی پیشرفت نے عالمی اعتماد کی بحالی میں مدد دی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لئے سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور سکیورٹی خدشات کا مؤثر حل ناگزیر ہے۔

مزید خبریں