سڈنی۔20جنوری (اے پی پی):آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دل کے دورے کے بعد انسانی دل پٹھوں کے خلیات دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے دل کے دورہ کے علاج کے لیے مستقبل میں ری جنریٹو تھراپیز کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔شنہوا کے مطابق جرنل سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ دل کے دورے کے …
دل کا دورہ پڑنے کے بعد انسانی دل کے پٹھوں کے خلیات دوبارہ بن جاتے ہیں، آسٹریلوی سائنسدان

مزید خبریں
سڈنی۔20جنوری (اے پی پی):آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دل کے دورے کے بعد انسانی دل پٹھوں کے خلیات دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے دل کے دورہ کے علاج کے لیے مستقبل میں ری جنریٹو تھراپیز کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔شنہوا کے مطابق جرنل سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ دل کے دورے کے بعد دل کے کچھ حصے متاثر (اسکارڈ) رہ جاتے ہیں تاہم ساتھ ہی نئے پٹھوں کے خلیات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ عمل اس سے قبل صرف چوہوں میں دیکھا گیا تھا جبکہ انسانوں میں اس کا مظاہرہ پہلی مرتبہ دیکھا گیا ہے۔ یہ بات منگل کو آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کی طرف سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی۔
تحقیق کے مصنف اور یونیورسٹی آف سڈنی کے ریسرچ فیلو رابرٹ ہیوم نے کہا کہ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ دل کے دورے کے بعد جب دل کے خلیات مر جاتے ہیں تو دل کے وہ حصے ناقابل تلافی طور پر متاثر ہو جاتے ہیں جس کے باعث دل جسم کے اعضا تک خون پمپ کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایسی تھراپیز تیار کرنے کی امید ہے جو دل کی قدرتی صلاحیت کو بڑھا سکیں تاکہ وہ نئے خلیات پیدا کر کے دل کے دورے کے بعد خود کو دوبارہ بحال کر سکے۔ رابرٹ ہیوم آسٹریلیا کے بیئرڈ انسٹی ٹیوٹ فار اپلائیڈ ہارٹ اینڈ لنگ ریسرچ میں ٹرانسلیشنل ریسرچ کے سربراہ بھی ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے یہ اہم پیش رفت آسٹریلیا کے رائل پرنس الفریڈ ہسپتال میں بائی پاس سرجری کرانے والے مریضوں سے حاصل کیے گئے زندہ دل کے ٹشوز کے نمونوں سےحاصل کی۔مطالعے کے سینئر مصنف اور رائل پرنس الفریڈ ہسپتال میں امراض قلب کے ماہر پروفیسر شان لال نے کہا کہ حتمی مقصد اس دریافت کو استعمال کرتے ہوئے دل کے نئے خلیات تیار کرنا ہے جو عارضہ قلب کو واپس پلٹ سکیں۔سائنس دانوں کے مطابق قلبی امراض اب بھی دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں اور دل کا دورہ انسانی دل کے تقریباً ایک تہائی خلیات کو ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دریافت نئی ری جنریٹو میڈیسن کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔








