توانائی کا حصول اور بجلی کی قیمت میں کمی لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،بجلی کے نظام اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے، لائن لاسز کو کم کرنے اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب و رسد کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا جائے،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی وزارت بجلی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت اسلام آباد ۔ …
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی وزارت بجلی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت
توانائی کا حصول اور بجلی کی قیمت میں کمی لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،بجلی کے نظام اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے، لائن لاسز کو کم کرنے اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب و رسد کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا جائے،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی وزارت بجلی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت
اسلام آباد ۔ 15 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ توانائی کا حصول اور بجلی کی قیمت میں کمی لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزارت بجلی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)کے سربراہان بجلی کے نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے، لائن لاسز کو کم کرنے اور ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب و رسد کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیر اعظم ہاﺅس میں ملک بھر کی مختلف ڈسکوز کی کارکردگی پر بریفنگ کے دوران کیا۔ تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان نے وزیر اعظم کو ان کی متعلقہ کمپنیوں کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے اپنے علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ، لائن لاسز کو کم کرنے اور وصولیوں کو بہتر بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ نظام کے تکنیکی اور انتظامی مسائل کی تشخیص کریں اور اس کے لئے قابل عمل حل لے کر آئیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹرانسمیشن اور تقسیم کے نقصانات کے ساتھ ساتھ بل کی رقم کی وصولی میں کمی سے قومی خزانے کو بہت بڑا نقصان ہوا۔ وزیر اعظم نے پارلیمنٹیرینز کی جانب سے پاور سیکٹر میں ترقیاتی منصوبوں پر اٹھائے گئے مختلف مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ پائیدار ترقی کے ہداف کے تحت کئے جانے والے منصوبوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں فعال نقطہ نظر کو اپنایا جائے۔ وزیر اعظم نے تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ اپنے متعلقہ کمپنیوں میں شکایات کے ازالے کا مضبوط نظام قائم کریںاور عوامی نمائندوں سے مزید تعاون کریں۔









