وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مقامی ریفائنریوں کی جانب سے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی قیمتوں میں نمایاں کمی پر آمادگی کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر سے زائد کمی کا امکان ہے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نئی قیمت کے اعلان سے پہلے اپنا حساب مکمل کر کے قیمت کا تعین کرے گی۔
مقامی ریفائنریوں کی جانب سے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے قیمتوں میں نمایاں کمی پر آمادگی کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر سے زائد کمی کا امکان ہے، علی پرویز ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ مقامی ریفائنریوں کی جانب سے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اپنی قیمتوں میں نمایاں کمی پر آمادگی کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر سے زائد کمی کا امکان ہے، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نئی قیمت کے اعلان سے پہلے اپنا حساب مکمل کر کے قیمت کا تعین کرے گی۔
بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ جنگ میں شدت کے باعث عالمی سطح پر ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ڈیزل کا کریک مارجن ایک بار پھر 60 سے 70 ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جنگ کے باعث تیل پیدا کرنے والے ملک روس میں بھی ڈیزل کی سپلائی کے لیے مسائل پیدا ہوئے ہیں، اسی طرح کئی دیگر ممالک کو بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے ڈیزل کا بڑا حصہ مقامی ریفائنریاں تیار کرتی ہیں جو خام تیل کو ریفائن کرکے مصنوعات تیار کرنے کے بعد انہیں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو فراہم کرتی ہیں۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر ریفائنریوں سے عوام کو ریلیف دینے کی درخواست کی اور وزارت پٹرولیم کو بھی اس معاملے پر پیش رفت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ عوام کو درپیش مشکلات کو سمجھتے ہوئے ریفائنریوں نے حکومت کی درخواست قبول کرلی اور ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں کمی سے ٹریکٹر اور ٹیوب ویل استعمال کرنے والے کسانوں کو ریلیف ملے گا جبکہ بسوں کے ذریعے سفر کرنے والے طلبہ بھی اس سے مستفید ہوں گے۔وفاقی وزیر نے ریفائنریوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنگ کے دوران بھی حکومت کا ساتھ دیا تھا اور ایک ماہ کے لیے اپنی قیمتیں خام تیل کی قیمت سے منسلک کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریفائنریوں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک پہنچانے کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ سستے ایندھن اور کم ٹیکس کی ضرورت کو تیل کی سپلائی چین سے وابستہ سٹیک ہولڈرز کے جائز تقاضوں کے ساتھ متوازن رکھا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر وہ آئندہ ہفتے اپنی ٹیم کے ہمراہ کراچی میں ریفائنریوں کا دورہ کریں گے۔ دورے کا مقصد ریفائنریوں کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرنا اور طویل عرصے سے زیر التوا معاملات، خصوصاً ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن پر بات چیت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مقامی ریفائنریاں بھاری خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں جس کے باعث زیادہ مہنگا خام تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس محدودیت کے نتیجے میں صارفین کے لیے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں زیادہ رہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے منصوبہ تیار کر رہی ہے اور ریفائننگ کے شعبے کی ساختی کمزوریوں کو دور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بانڈڈ سکیموں کو بھی فعال کرے گی تاکہ پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق دوست ممالک سے خام تیل حاصل اور ذخیرہ کرسکے۔
ان اقدامات سے پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں میں کمی آئے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے توانائی کا تحفظ یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت جنگ کے باعث عوام کو درپیش مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کا بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود حکومت نے عوام کو ان مشکلات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 100 ارب روپے سے زائد استعمال کیے ہیں۔ حکومت نے صوبائی حکومتوں سے بھی مشاورت کی اور متاثرہ طبقات کے لیے ہدفی سبسڈیز متعارف کرائی ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد ٹیکس نظام میں دستیاب عارضی مالی گنجائش بھی استعمال کی گئی ہے۔








