"انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم، خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل 2026 اور بٹگرام تحصیل بلڈنگ سے متعلق قانونی و انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، آفتاب عالم”
خیبر پختونخوا کے وزیر قانون کی زیرِ صدارت مختلف اہم قانونی و انتظامی امور سے متعلق اجلاس کا انعقاد
پشاور۔ 19 اگست (اے پی پی):خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیرِ صدارت مختلف اہم قانونی و انتظامی امور سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم، خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل 2026 اور بٹگرام تحصیل بلڈنگ کی تعمیر سے متعلق عدالتی معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
صوبائی لیگل کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی منیر حسین لغمانی، ارباب محمد عثمان خان اور سجاد اللہ خان سمیت سی ٹی ڈی، محکمہ قانون، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترامیم کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں قائم صوبائی لیگل کمیٹی نے مقدمات کی سماعت اور اپیلوں سے متعلق مختلف قانونی مدتوں میں اضافے کی تجاویز پر بھی غور کیا۔مجوزہ ترامیم میں بعض قانونی مدتوں کو سات دن سے بڑھا کر چھ ماہ، پندرہ دن سے بڑھا کر تیس دن جبکہ اپیل دائر کرنے کی مدت میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم کے قانونی و عملی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مسودہ بل پر مزید کارروائی کے لیے غور کیا۔دوسرے اجلاس میں خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل 2026 کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی نے مجوزہ قانون کی مختلف شقوں، قانونی و انتظامی پہلوؤں اور سرکاری ملازمین سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا۔اسی طرح بٹگرام میں تحصیل بلڈنگ کی تعمیر سے متعلق رٹ پٹیشن نمبر 397-A/2025 کے معاملے پر بھی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر کھیل و امور نوجوانان تاج محمد ترند سمیت متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں مقدمے کی موجودہ صورتحال، صوبائی حکومت کے مؤقف اور معاملے کے جلد حل کے لیے قانونی و انتظامی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ صوبائی قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، قانونی پیچیدگیوں کا بروقت ازالہ اور مؤثر قانون سازی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تمام قانونی معاملات کا قانون اور متعلقہ عدالتی احکامات کی روشنی میں باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی بروقت مکمل کی جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ عوامی اہمیت کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق زیرِ التوا قانونی معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور صوبائی حکومت کے مفادات کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔









